اختلاف رائے غیرمعمولی بات نہیں،انتشار کو روکنا چاہیے: ممنون حسین

ممنون حسین
Image caption صدر نے گذشتہ روز کابل میں ہونے والے حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن کے بغیر خطے میں استحکام نہیں آسکتا ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ قوم کے مختلف طبقات کے درمیان اختلاف رائے کا پیدا ہونا کوئی غیرمعمولی بات نہیں، لیکن اسے انتشار میں بدلنے سے روکا جانا چاہیے۔

جمعرات کو صدر مملکت نے سالانہ خطاب کے دوران حزب اختلاف دس منٹ تک شدید احتجاج کرنے کے بعد صدر کی تقریر کا بائیکاٹ کیا۔

تاہم صدر نے ’گو نواز گو‘ کے نعروں اور سیٹیوں میں اپنا 27 منٹ طویل خطاب جاری رکھا اور کہا کہ تاریخ اس پارلیمان کا کردار ہمیشہ یاد رکھے گی۔

مشترکہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف، مسلح افواج کے سربراہان، وزراء اعلیٰ، چاروں صوبوں کے گورنر، وفاقی وزراء اور سفارت کار بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے۔

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستانی جمہوریت نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں اور اب بھی پارلیمان کا حقیقی مقاصد کے حصول کی طرف سفر جاری ہے۔

صدر مملکت ممنون حسین کا موجودہ پارلیمنٹ سے یہ چوتھا اور آخری خطاب تھا۔

آئین کے آرٹیکل 56 کے تحت نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کا پارلیمنٹ سے خطاب آئینی ضرورت ہے۔

ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر ممنون حسین کا کہنا تھا قوم کے مختلف طبقات کے درمیان اختلاف رائے کا پیدا ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن اسے انتشار میں بدلنے کا راستہ پوری حکمت عملی کے ساتھ بند کر دیا جائے تاکہ ملکی ترقی کو روکنے کا عمل ناکام بنایا جا سکے۔

Image caption صدر مملکت ممنون حسین نے موجودہ پارلیمنٹ سے یہ چوتھا اور غالبا آخری خطاب تھا

صدر ممنون نے پاک بھارت کشیدگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انڈیا لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان بنیادی اختلاف مسئلہ کشمیر ہے جو برصغیر کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔

انھوں نے انڈیا کے جارحانہ طرز عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے طرز عمل کی وجہ سے انڈیا اس خطے میں سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینا ہے۔

انھوں نے اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس کی منسوخی کے حوالے سے کہا کہ یہ بدقسمتی تھی کہ انڈیا کے رویے کی وجہ سے یہ اہم کانفرنس منعقد نہ ہوسکی۔

صدر نے بدھ کو کابل میں ہونے والے خودکش حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن کے بغیر خطے میں استحکام نہیں آسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اجلاس کے بعد ردِ عمل

اجلاس کے خاتمے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے حزب اختلاف کی ہلڑ بازی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ سرکاری بینچوں پر بیٹھے اراکین نے یہ سب برداشت کیا اور ردعمل نہیں دکھایا۔

حزب اختلاف اپنے اس مطالبے کے حق میں کہ انہیں سرکاری ٹی وی پر بجٹ پر ان کی تقاریر براہ راست نشر کرنے کی اجازت دی جائے احتجاج کر رہی ہے اور اپنا اجلاس ایوان سے باہر منعقد کر رہی ہے۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ وہ اپوزیشن کے پاس ٹائم مینجمنٹ کی تجویز لے کر جا رہے تھے لیکن انھوں نے احتجاج کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ دس گھنٹوں کی تقاریر سے پی ٹی وی کو کروڑوں کا نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں اشتہار بھی چلانے ہوتے ہیں۔

حزب اختلاف کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ صدر ممنون حسین کو پارلیمان میں جن معاملات پر بات کرنی چاہیئے تھی ان پر انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا ’پاکستان میں کرپشن، دہشت گردی، جیسے مسائل جو پارلیمان اور صدر سے تعلق رکھتے ہیں، ان پر بھی صدر نے ایک مرتبہ بھی توجہ نہیں دلائی۔ ‘

امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اس موقع پر کہا کہ 'حکومت بھی نہیں چاہتی تھی کہ حزب اختلاف اطمینان سے صدر کا خطاب سنے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ صدر نے کرپشن کے خلاف حکومت کو نہ ہی کسی قسم کی نصیحت کی، نہ تنبیہ کی اور نہ ہی اس کا نوٹس لیا۔

اسی بارے میں