سعودی اتحاد کی شرائط پہلے پارلیمان میں پیش کریں: رضا ربانی

میاں رضا ربانی (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کسی ملک کے اندر کارروائی سے متعلق چیرمین سینیٹ کے سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ مفروضے پر مبنی سوال ہے اور اس کا جواب نہیں دیا جاسکتا ہے

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے جمعرات کو اپنے ایک حکم نامے (رولنگ) میں حکومت کو پابند کیا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عسکری اتحاد میں پاکستان کی شمولیت کی شرائط اور طریقہ کار وفاقی کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کرنے سے قبل پارلیمان کے سامنے بحث کے لیے رکھا جائے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں 40 اسلامی ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد بنایا گیا ہے جس کی سربراہی پاکستان کی برّی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سونپی جانے کی اطلاعات ہیں۔

سعودی اتحاد اور پالیسی میں توازن بھی؟

کیا راحیل شریف کو قیادت کرنی چاہیے؟

اس اتحاد کے حوالے سے اگرچہ اہم ترین ہدف شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ہے تاہم مختلف حلقوں میں یہ تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اسے سعودی عرب کے علاقائی حریف ایران کے خلاف فرقہ وارانہ انداز میں استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

جمعرات کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے ایوان میں توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اسلامی اتحاد سے متعلق ایوان کو اعتماد میں لیا۔

فرحت اللہ بابر نے اپنے نوٹس میں ان اخباری اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی جس میں سعودی حکام نے کہا تھا کہ اسلامی اتحاد محض خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم یا القاعدہ کے خلاف کارروائیوں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ کسی رکن ملک کی درخواست پر باغی گروپوں کے خلاف حرکت میں لایا جا سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption اس عسکری اتحاد کی سربراہی پاکستان کی برّی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف کو سونپی جانے کی اطلاعات ہیں۔

سرتاج عزیز نے اعتراف کیا کہ حالیہ ریاض کانفرنس میں ہونے والے تقاریر سے فرقہ ورانہ تقسیم کا خدشہ بڑھا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ سابق فوجی سربراہ جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف کی موجودگی سے پاکستان کو اپنے موقف کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس اتحاد میں شامل اپنی فوج سعودی عرب سے باہر کہیں نہیں بھیجے گا۔

کسی ملک کے اندر کارروائی سے متعلق چیرمین سینیٹ کے سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ مفروضے پر مبنی سوال ہے اور اس کا جواب نہیں دیا جاسکتا ہے لیکن سعودی حکام کا شاید اشارہ یمن کی جانب تھا جہاں ایران کا بھی اثر و رسوخ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد دہشت گردی کے خلاف ہے ناکہ کسی ملک جیسے کہ ایران کے خلاف ہے۔

سینیٹر سحر کامران نے ایک توجہ دلاؤ نوٹس میں امریکہ کی جانب سے گزشتہ دنوں افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں گرائے گئے بڑے بم سے ہلاک ہونے والوں میں پندرہ بھارتی شہری بھی ہونے کی اطلاعات کے بارے میں سوال اٹھایا تو سرتاج عزیز نے کہا کہ ان کی معلومات میں ایسی ہلاکتیں نہیں ہیں لیکن انہیں انڈیا کی افغانستان میں جاری مداخلت پر تشویش ضرور ہے۔ انہوں نے انڈیا کی جانب سے اس فوجی افسر کو ایوارڈ دینے کی بھی مذمت کی جس نے ایک کشمیری کو جیپ کے آگے باندھ دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں