ٹیکسٹائل برآمدات مسلسل گر رہی ہیں

ٹیکسٹائل

کراچی کے قدیم علاقے میں واقع رنچھوڑ مارکیٹ میں ان دنوں دکانوں، پتھاروں اور ریڑھوں پر ہر طرف نت نئے ڈیزائنوں اور رنگوں میں لان کے کپڑے بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور ہر جگہ خواتین کا رش موجود ہے۔ اس مارکیٹ میں کچھ دکانوں میں لان کے نامور برانڈ بھی دستیاب ہیں۔

ایاز احمد ان برانڈز کا کاروبار کرتے ہیں اور خوش ہیں کہ یہ کاروبار بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے پاس گل احمد، عاصم جوفا اور کھادی کے سوٹ دستیاب ہیں جو وہ 50 فیصد ڈسکاؤنٹ پر فروخت کرتے ہیں: ’سات ہزار کا سوٹ ساڑھے تین ہزار میں فروخت ہوتا ہے۔ ہم فیکٹری سے لاٹ اٹھاتے ہیں جو ہمیں سستا پڑتا ہے، اسی وجہ سے سستا فروخت کرتے ہیں۔‘

پاکستان کی برآمدات کا نصف حصہ ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ ہے، بیڈشیٹس کے علاوہ کپڑے، گارمنٹس اور دیگر مصنوعات امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور سپین سمیت یورپ کے دیگر ممالک کو فروخت کی جاتی ہیں۔

لیکن اب یہ برآمدات مسلسل گر رہی ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے مطابق صرف موجودہ دور حکومت میں 20 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ توانائی کا بحران اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہے۔

آپٹما سندھ اور بلوچستان کے سربراہ آصف انعام کے مطابق موجودہ حکومت نے چار سال قبل توانائی (بجلی اور گیس) کے نرخ 70 فیصد تک بڑھا دیے جبکہ حریف ممالک نے ایسا نہیں کیا: ’جب دنیا میں توانائی کے نرخ کم ہوئے تو ہماری حکومت نے کمی نہیں کی نتیجہ میں ہم پہلے ہی مہنگے تھے جبکہ باقی ممالک قیمتوں کے نتیجے میں مزید سستے ہو گئے جس کی وجہ سے ساری مارکیٹ ہمارے ہاتھ سے نکل گئیں۔‘

وفاقی وزیر ٹیکسٹائل خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا جو پیکیج ہے وہ مقامی ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ فوکسڈ مراعات دی جائیں یہی صنعت کاروں کی سب سے بڑی مانگ تھی۔‘

بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں کپڑے کی کھپت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، برانڈ مقامی ہو یا بین الاقوامی اب عام مارکیٹوں اور بازاروں میں وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ ماہرین کے مطابق مقامی مارکیٹ میں بھی منافع میں اضافہ ہوا ہے۔

معاشی تجزیہ نگار مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ پہلے لان کا کلچر ہول سیل مارکیٹ تک محدود تھا اب فروری کے ساتھ ہی لان کا افتتاح ہو جاتا ہے اور لان کا ایک سوٹ دس ہزار روپے تک میں دستیاب ہوتا ہے اس صورت حال میں کمپنیوں کا نفع اس قسم کی برانڈڈ لان میں بڑھتا جا رہا ہے۔

’اب ہوم سٹور بننا شروع ہو گئے ہیں جہاں بیڈ شیٹس وغیرہ دستیاب ہیں۔ پہلے لوگ جامعہ کلاتھ جیسے بازاروں میں جاتے تھے لیکن اب برانڈ اور سٹور کا کلچر آنا شروع ہو گیا ہے۔ جو بڑے صنعت کار ہیں ان کے لیے یہ صورت حال موزوں ہے، اس وجہ سے انھوں نے اپنے ریٹیل نیٹ ورک بھی تیزی کے ساتھ بڑھانا شروع کر دیے ہیں۔‘

وفاقی وزیر ٹیکسٹائل خرم دستگیر پر امید ہیں کہ مقامی برانڈ میں اضافے کی وجہ سے ایکسپورٹ کی گنجائش بڑھے گی اور خریداروں کو دکھانے کے لیے پہلے سے زیادہ ورائیٹی موجود ہوگی۔

یورپی مارکیٹ تک رسائی کے لیے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملا لیکن اس کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ آپٹما سندھ اور بلوچستان کے سربراہ آصف انعام کا کہنا ہے کہ یہ ایک بہت اچھا اقدام تھا اور امید تھی کہ تین سے چار ارب روپے کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی کیونکہ بنگلہدیش کو بھی یہی حیثیت دی گئی تھی اس نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔۔

’ہمیں صرف اتنا فائدہ ہوا کہ یورپی ممالک میں ہماری ایکسپورٹ گری نہیں بلکہ برقرار رہی، اس کے علاوہ وہاں یورو کافی گراوٹ کا شکار ہوا جس کی وجہ سے ہم ری ویلیو ہو گئے۔‘

آپٹما کے موقف کے برعکس وفاقی وزیر خرم دستگیر کہتے ہیں کہ جی ایس پی پلس نے ایکسپورٹ کو سہارا دیا ہے۔ ’پاکستان کی ایکسپورٹ کو اس سے بھی زیادہ مشکلات ہو سکتی تھیں، لیکن خاص طور پر گارمنٹس اور ہوم ٹیکسٹائل میں کافی بہتری آئی ہے۔‘

پاکستان کپاس پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے، کپاس کی کاشت سے لے کر ٹیکسٹائل صنعت تک 40 فیصد آبادی کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے، برآمدات میں کمی کے نقصان کا بوجھ صرف صنعت کار کو نہیں کسان تک کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔

مقامی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیکٹسائل امپورٹ اب 25 سے 30 فیصد بڑھ رہی ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ بین الاقوامی مارکیٹ کے علاوہ مقامی مارکیٹ بھی ان کے ہاتھوں سے نکل رہی ہے، مقامی مارکیٹ کو فوکس رکھنے کی ایک یہ بھی وجہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں