’گاڈ فادر سے سسیلیئن مافیا تک‘

کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کسی بھی جھگڑے میں فریقین کے درمیان تناؤ اور تلخی قدرتی عمل ہے۔ پاناما لیکس کا معاملہ جب سے سپریم کورٹ کی دہلیز پر رکھا گیا ہے عدلیہ نے اسے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔

ایسے میں سچ کی تلاش میں سرگرم سپریم کورٹ ایک اور وزیراعظم نواز شریف کی حکومت بظاہر دوسرا فریق بن چکے ہیں۔ ایسے میں دونوں میں تلخی قدرتی عمل ہے۔

٭ ’سپریم کورٹ کے جج کے ریمارکس افسوسناک ہیں‘

٭ دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن ڈرنے والے نہیں:سپریم کورٹ

٭ نہال ہاشمی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم

حکومت عدلیہ کا بظاہر احترام اور عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کا راگ تو ضرور الاپتی ہے لیکن پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد حکمراں جماعت کی طرف سے دبے الفاظ میں تنقید ضرور کی جاتی رہی ہے۔ ایسے حالات میں عدالت عظمی نے بھی قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک پوزیشن لی ہوئی ہے جو ابھی تک برقرار ہے۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق جب 20 اپریل کو اپنا فیصلہ سنایا تو اس کی ابتدا ہی پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اختلافی نوٹ سے کی گئی۔ اس نوٹ کی ابتدائی لائن ہی سنہ 1969 میں ماریو پوزو کے مشہور زمانہ ناول 'گارڈ فادر' کے اس مشہور فقرے سے کی گئی کہ 'ہر عظیم کامیابی کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے۔'

اگرچہ پاناما لیکس سے متعلق دائر کی گئی درخواستوں پر فیصلہ جسٹس اعجاز افضل نے لکھا ہے لیکن جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اس اختلافی نوٹ کی گونج نہ صرف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سنائی دی بلکہ اس کے چرچے زبان زد عام بھی ہوئے۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران بھی جب صادق اور امین کے معاملے پر دلائل دیے جا رہے تھے تو اس دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے تھے کہ اگر صحیح طریقے سے صادق اور امین کی جانچ پڑتال کی جائے تو پھر شاید درخواست گزار سینیٹر سراج الحق کے علاوہ کوئی بھی پارلیمنٹرین آئین کی اس شق پر پورا نہ اُتر سکے تاہم اگلے ہی روز سپریم کے اس پانچ رکنی بینچ کے سربراہ نے معذرت کرتے ہوئے اپنے الفاظ واپس لے لیے تھے۔

پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو حزب مخالف کی جماعتوں بلخصوص پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عوامی جلسوں میں وزیر اعظم کے لیے گارڈ فادر کا لقب استمال کرتے رہے ہیں۔

عمران خان تو سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا سہارا لیتے ہوئے وزیراعظم کو جھوٹا بھی قرار دیتے رہے لیکن جب پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس اعجاز افضل نے اس بات کا نوٹس لیا اور یہ واضح کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح نہ کی جائے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پھر عدالت ایسا کرنے والوں کو کٹہرے میں لائے گی۔

سپریم کورٹ کی طرف سے اس تنبیہ کے بعد عمران خان دوبارہ ایسے الفاظ استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔

فیصلے میں گاڈ فادر کا لفظ استعمال پر اگرچہ حکومتی نے بظاہر ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا لیکن پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے اس اختلافی نوٹ میں سپریم کورٹ کے جج کی طرف سے 'سویپنگ سٹیٹمنٹ' پر تحفظات کا اظہار ضرور کیا تھا۔

ابھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ حکمراں جماعت کے سینیٹر نہال ہاشمی کی طرف سے اداروں کی تضحیک پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا تو اس کی سماعت کے دوران عدالت کافی جارحانہ موڈ میں نظر آئی اور سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس عظمت سعید نے اس معاملے پر حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے اسے سسیلیئن مافیا قرار دے دیا۔

اٹلی کا سسیلیئن مافیا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ابتدا میں یہ مافیا غریب کسانون کی فصلوں اور جانوروں کو تحفظ فراہم کرتا تھا لیکن پھر وقت گزارنے کے ساتھ ساتھ وہ ان پر غاصب ہوگئے۔

سپریم کورٹ کے جج کی طرف سے ریمارکس کے بعد پھر وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے ترجمان کے دستخطوں کے بغیر ایک بیان جاری کیا گیا جس میں فاضل جج کے ریمارکس پر نہ صرف تحفظات کا اظہار کیا گیا بلکہ ان ریمارکس کو ججز کے کوڈ آف کنڈیکٹ کے خلاف ورزی بھی قرار دیا گیا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ججز کو صرف فیصلے لکھنے چاہیے اور اس طرح کے ریمارکس فضا کو آلودہ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکومت پاکستان کے ترجمان کے بیان میں سپریم کورٹ میں نہال ہاشمی کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت کے دوران 'ایک معزز جج کے مبینہ ریمارکس' پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے سابق صدر طارق محمود جہانگیری کہتے ہیں کہ اگر کسی کو ججز کے ریمارکس پر اعتراض ہے تو اس کی دادرسی کا طریقہ بھی موجود ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی جا سکتی ہے جس میں کسی بھی جج کے ریمارکس کو عدالتی کارروائی سے ہذف کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

حکمراں جماعت اس بات پر بھی تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے کہ وزیراعظم کے معاملے پر تو 'ادارے' فوری حرکت میں آ جاتے ہیں جبکہ عمران خان کے خلاف متعدد مقدمات زیر التوا ہیں بلکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اُنھیں اشتہاری بھی قرار دیا گیا ہے لیکن اُن کے خلاف 'ادارے' اس طرح ایکشن میں نظر آتے جس طرح حکمراں جماعت کے خلاف۔

پاکستان مسلم لیگ نواز پر پہلے بھی سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے دور میں سپریم کورٹ کی عمارت پر حملہ کرنے کا الزام ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ عدلیہ بحالی کی تحریک کی کامیابی کے سب سے بڑی دعودیدار بھی ہے۔

اسی بارے میں