کیا عدالتیں میرے 22 سال واپس دے سکتی ہیں؟

مظہر فاروق

مظہر فاروق کی عمر 42 سال ہے۔ ان کی زندگی کے 20 سال قصور میں گزرے مگر 22 سال جیل کی کال کوٹھری میں بیت گئے۔ وہ اب ایک بار پھر عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

انھیں گذشتہ برس نومبر میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے قتل کے اس مقدمے سے باعزت بری کیا تھا جس میں انھیں 18 سال پہلے سزائے موت سنائی گئی تھی۔

مظہر فاروق کہتے ہیں کہ ہائی کورٹ میں ان کی اپیل کی شنوائی کے لیے انھیں 11 سال انتظار کرنا پڑا۔ جب بات نہ بنی تو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر یہاں بھی 'انصاف کی باری آتے آتے مزید 10 سال تنگ و تاریک کال کوٹھری میں گزر گئے۔'

سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مظہر فاروق کے خلاف ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے انھیں باعزت بری کر دیا۔

ان کا کہنا ہے 'میری آدھی جائیداد جیل میں رشوت اور وکیلوں کی فیسوں کی نذر ہو گئی، جو بچ گئی اس پر مخالفین نے قبضہ کر رکھا ہے۔'

مظہر فاروق نے دورانِ قید گریجویشن مکمل کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سے معاوضے کا مطالبہ کریں گے۔

ان کا کہنا ہے'عدالتی نظام میں نقائص نے زندگی کا اہم حصہ تباہ کر دیا، کیا کوئی عدالت، کوئی جج، کوئی پولیس والا میری زندگی کے یہ اہم سال واپس کر سکتا ہے۔؟'

پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فاؤنڈیشن فار فنڈامنٹل رائٹس کے سربراہ اور وکیل شہزاد اکبر مظہر فاروق کے کیس پر کام کر رہے ہیں۔

شہزاد اکبر کہتے ہیں 'پاکستان میں انصاف مہیا کرنے کے عمل میں جھول یعنی مِسکیرج آف جسٹس کا ایکٹ موجود ہی نہیں جس کے مطابق ریاست یا نظام میں نقص یا غلطی کی وجہ سے کسی شخص کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے، یہی وجہ ہے کہ مظہر فاروق کیس جیسے واقعات پیش آتے ہیں۔'

شہزاد اکبر ایک بین الاقوامی تنظیم 'ریپریو' کے ساتھ مل کر مظہر فاروق جیسے درجنوں مقدمات پر کام کا آغاز کرنے جا رہے ہیں جن میں پولیس کی جانب سے نا مکمل یا غلط تحقیقات، عدالتوں سے مقدمے کے فیصلے میں سالوں کی تاخیر یا غلط سزاؤں کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کو تکلیف سے گزرنا پڑا اور پھر عدالتوں نے انھیں بری کر دیا۔

ری پریو کے مطابق وہ ان مقدمات کی مدد سے پاکستان میں 'موت کی سزا کے قانون کے مسلسل استعمال پر سوال اٹھائیں گے۔'

شہزاد اکبر کہتے ہیں ' حکومت کی جانب سے ایسے افراد کو معاوضہ دیا جانا چاہییے تاکہ ان کی زندگی کے اہم ترین سال سلاخوں کے پیچھے بیگناہی میں گزارنے کی کچھ تلافی ہو سکے۔'

ان کے مطابق اس مہم کا ایک مقصد ملک کے عدالتی نظام کی خامیاں منظر عام پر لانا ہے جن کی وجہ سے مظہر فاروق جیسے مقدمات سامنے آتے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے وکیل اور سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ طارق محمود جہانگیری کہتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت یا کسی ریاستی ادارے سے 'کمپنسیشن یا معاوضے' کے لیے کیس کے اندراج کا قانون موجود ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے 'بدقسمتی ہے کہ ملک میں مس کیرج آف جسٹس ایکٹ نامی کوئی شے موجود ہی نہیں ہے۔'

طارق محمود جہانگیری کے مطابق 'پاکستان میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس میں حکومت، عدالتوں یا ضابطہ فوجداری کے تحت تلافی کی جا سکے، غلط سزا کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے کسی پر ذمہ داری عائد ہی نہیں کی جا سکتی اور یہی اس نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔'