70 برس پہلے: تقسیم ہند کے منصوبے پر جناح کا جواب
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

3 جون 1947: برطانوی حکومت کے انڈیا میں منتقلی اقتدار کے اعلان پر محمد علی جناح کا رد عمل

70 پرس پہلے 3 جون 1947 کو برطانوی حکومت نے انڈیا میں اقتدار کی منتقلی اور ملک کی تقسیم کا اعلان کیا۔ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے برطانوی وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی اور وائس رائے لارڈ ماؤٰنٹ بیٹن کی تقریر کے بعد اپنے رد عمل میں کہا کہ برطانوی حکومت کے اس اعلان پر انتہائی تحمل اور ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ منصوبہ کچھ اہم پہلوؤں میں ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتا لیکن اس پر حتمی فیصلہ آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل میں لیا جائے گا۔

محمد علی جناح کے بیان کا اردو ترجمہ:

ہِز میجسٹی کی حکومت کا ہندوستان کے لوگوں کے لیے انتقال اقتدار کے منصوبے کے بارے میں بیان نشر کیا جا چکا ہے، اور انڈیا اور بیرون ملک ذرائع ابلاغ میں کل اشاعت کے لیے پریس کو ریلیز کر دیا جائے گا۔

اس بیان میں اِس منصوبے کے خد و خال بیان کیے گئے ہیں جس پر ہمیں پوری سنجیدگی سے غور کرنا ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس منصوبے کا جائزہ ٹھنڈے دماغ اور غیر جذباتی انداز میں لیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں اس عظیم برصغیر کے سیاسی مسائل کے حل کے لیے، جس میں چالیس کروڑ لوگ رہتے ہیں، نہایت اہم اور گمبھیر فیصلے کرنا ہیں۔ جس قدر بھاری ذمہ داری ہمارے کاندھوں پر ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ اور اس حوالے سے سب سے بڑی ذمہ داری ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں کے کاندھوں پر ہے۔ ہمیں اپنی تمام تر توانائیاں اس بات پر صرف کرنی چاہئیں کہ انتقالِ اقتدار کا یہ مرحلہ مؤثر اور پر امن انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچے۔

میری تمام طبقات خاص طور پر مسلمانوں سے مخلصانہ اپیل ہے کہ وہ نظم و ضبط قائم رکھیں۔ ہمیں اس منصوبے کی روح کو سمجھتے ہوئے کسی نتیجے پر پہنچنا ہو گا۔

میں اس فیصلہ کن مرحلے پر خدا کی رہنمائی طلب کرتا ہوں تاکہ ہم اپنی ذمہ داری منصوبے کو اچھی طرح سمجھتے ہوئے سمجھداری سے اور معتبرانہ انداز میں پوری کر سکیں۔

یہ تو واضح ہے کہ یہ منصوبہ کئی اہم پہلوؤں میں ہماری توقعات پر پورا نہیں اترتا۔ اور اس میں کچھ ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ہم یہ کہہ یا محسوس نہیں کر سکتے کہ ہم ان سے مطمئن ہیں یا اتفاق کرتے ہیں۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہز میجسٹی کی حکومت کی طرف جو منصوبہ پیش کیا گیا ہے ہم نے اس سے سمجھوتے کے طور پر قبول کرنا ہے یا سیٹلمنٹ۔ میں یہ فیصلہ نہیں کروں گا بلکہ آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل ہی اس پر ہمارے آئین اور روایات کے مطابق حتمی فیصلہ کر سکتی ہے، جس کا اجلاس پیر نو جون کو طلب کیا گیا ہے ۔ لیکن اب تک جو میں سمجھ سکا ہوں دلی میں مسلم لیگ کے حلقے پرامید ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی حتمی فیصلے سے پہلے اس منصوبے کے منفی اور مثبت پہلوؤں پر غور کیا جانا چاہیے۔

میں یہ ضرور کہوں گا کہ میرے خیال میں وائسرائے نے کئی قوتوں کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے۔ اور میرا ان کے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ انصاف اور غیر جانبداری کے جذبے سے کام کر رہے تھے اور ہمیں چاہیے کہ ہم ان کام آسان بنائیں۔