70 برس پہلے: انڈیا میں منتقلی اقتدار اور تقسیم کا اعلان
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

70 برس پہلے: انڈیا میں منتقلی اقتدار اور تقسیم کا اعلان

تین جون 1947 کو انڈیا میں اقتدار کی منتقلی کے بارے میں اس وقت کے وزیر اعظم کلیمنٹ ایٹلی کا بیان۔ یہ بیان اس وقت انڈیا کے وائس رائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے منتقلی اقتدار کے منصوبے کے اعلان سے پہلے نشر کیا گیا تھا۔

’چند ہی منٹوں میں آپ اس براڈ کاسٹ کی ریکارڈنگ سنیں گے جو ایڈمرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن انڈیا کے لوگوں سے کرنے والے ہیں۔

انڈیا کئی صدیوں کے اندرونی خلفشار کے بعد برطانوی راج میں متحد ہوا تھا۔ اس اتحاد کو قائم رکھنا برطانوی پالیسی کا اہم ستون تھا جس کی وجہ سے اتنا عرصہ اس عظیم بر صغیر میں امن قائم رہا۔ یہ ہماری خواہش رہی ہے کہ انڈیا میں مکمل خود مختاری کے حصول کے بعد بھی یہ اتحاد قائم رہے، جو برسوں سے انڈیا میں ہماری پالیسی کا مقصد تھا۔

کیبنٹ مشن کا منصوبہ جس کے بارے میں ہمارا اب بھی یہ خیال ہے کہ یہ انڈین پرابلم کے حل کی بہترین بنیاد فراہم کرتا ہے ایسے ہی نتیجے کے حصول کے لیے بنایا گیا تھا۔ لیکن کیونکہ انڈیا کے رہنما متحدہ انڈیا کے لیے کسی منصوبے پر متفق نہیں ہو سکے، اس لیے تقسیم ہی اس کا ناگزیر متبادل ہے۔ اور انڈیا والوں کو اس مشکل آپریشن کے انجام میں ہماری ہر طرح کی مدد اور مشورہ حاصل ہو گا۔ اب جو منصوبہ پیش کیا جا رہا ہے اس کے دو مقاصد ہیں۔ انڈیا کی سیاسی جماعتوں کے درمیان انتہائی درجے کی ہم آہنگی اور تعاون تاکہ تقسیم کا عمل کم سے کم نقصان اور تکلیف کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچے۔

دوسرا یہ کہ برطانوی حکومت اپنی ذمہ داریاں بغیر کسی تاخیر کہ آئینی اور منظم انداز میں سونپ کر سکے۔

مجھے یقین ہے کہ یہ سب پر واضح ہوگا، بشمول برطانوی اور انڈیا کے لوگوں کے، اقتدار کی منتقلی کے فیصلے کے بعد جتنی جلدی نئی حکومتیں قائم ہو سکیں اور اپنی عظیم ذمہ داریاں سنبھال سکیں اتنا اچھا ہے۔ اسی مقصد کے حصول کے لیے اس منصوبے کے تحت ڈومینین سٹیٹس کی حامل ایک یا دو حکومتوں کو اقتدار اسی برس منتقل ہو جائے گا۔

میری سب سے مخلصانہ اپیل ہے کہ ان تجاویز پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ ان پر تنقید کرنا یقیناً آسان ہے۔ لیکن وائس رائے کی ہفتوں کی انتھک محنت کے باوجود کوئی قابل عمل متبادل حل نہیں مل سکا۔ یہ تجاویز انڈیا کے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے سامنے آئی ہیں۔ یہ وائس رائے کی طرف سے انڈیا کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ طویل مذاکرات کا حاصل ہے۔

یہ رہنما بھی بعد میں اس منصوبے کے بارے میں خطاب کریں گے۔ ان تجاویز پر وائس رائے کو برطانوی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انڈیا کے عوام اس بات کو سمجھیں کہ یہ صرف ان کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے پیش کی جا رہی ہیں۔

ہم انھیں یقین دلاتے ہیں کہ وہ جو بھی راستہ اختیار کریں گے برطانیہ اور برطانوی عوام ان کے ساتھ قریبی اور دوستانہ تعلقات قائم رکھیں گے، جن کے ساتھ ان کی دیرینہ اور سودمند رفاقت رہی ہے۔‘