اسلامی عسکری اتحاد دہشت گردی کی کسی ایک تشریح پر متفق ہو سکے گا؟

سعودی فوج تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان سعودی عرب کی اقامت میں اسلامی ممالک کے نئے فوجی اتحاد کا حصہ بن چکا ہے لیکن ابھی اتحاد بننا باقی ہے۔ اس نئے اتحاد کا جسے اسلامی نیٹو بھی کہا جا رہا ہے ابھی ضابطہ کار طے ہونا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ زیادہ متنازع بھی ہوتا جا رہا ہے۔

اگر یہ اتحاد اپنی موجودہ حیثیت برقرار رکھتا ہے جیسے کہ سنّی اکثریتی اور ایران مخالف تو ایسے میں پاکستان کے لیے اس کا حصہ بنے رہنا کیا مناسب رہے گا؟ پاکستان نے کہیں فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے کے لالچ میں جلد بازی سے کام تو نہیں لیا؟

سعودی اتحاد اور پالیسی میں توازن بھی؟

این او سی جاری، راحیل شریف سعودی عرب روانہ

پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد دہشت گردی کے خاتمے اور شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے وجود میں آیا ہے۔ ترجمان نفیس زکریا کہتے ہیں کہ پاکستان کی پالیسی انتہائی واضح ہے اور وہ یہ کہ یہ کسی مسلمان ملک کے خلاف نہیں ہے۔

'اس اسلامی عسکری اتحاد کے ضابطہ کار پر مشاورت جاری ہے اور میڈیا میں اس بارے میں کی جا رہی باتیں قیاس آرائیاں ہیں۔ طریقہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے کہا جا رہا ہے کہ جلد اتحاد میں شامل ممالک کے وزار دفاع کا اجلاس سعودی عرب میں منعقد ہوگا۔'

لیکن وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سینٹ میں اعتراف کیا کہ اسلامی اتحاد کی خاطر پاکستان کو انتہائی احتیاط سے کام کرنا ہوگا۔ انھوں نے اعتراف کیا کہ ریاض میں عرب اور امریکی سربراہی اجلاس میں تقاریر سے فرقہ ورانہ تقسیم میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم ان کا موقف ہے کہ ریٹائرڈ جنرل راحیل کی موجودگی سے پاکستان کا موقف مضبوط ہوگا۔ پاکستان بظاہر تو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی چاہتا ہے اور اس کے لیے اس کی سیاسی و عسکری قیادت نے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کی ہیں لیکن اس سے بظاہر کوئی زیادہ افاقہ نہیں ہوا ہے۔

پاکستان سعودی عرب تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان نے کہیں فوجی اتحاد کی قیادت سنبھالنے کی لالچ میں جلد بازی سے کام تو نہیں لیا؟

اب اس فوجی اتحاد سے ایران کی مزید ناراضی کا قوی امکان ہے۔ نئے اتحاد میں شامل اکثر ممالک سنّی ہیں جس سے اس کا یکطرفہ ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ امریکہ عرب اجلاس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عرب رہنماؤں کی تقاریر نے بھی اس اتحاد کے اہداف کے بارے میں کوئی ابہام نہیں چھوڑا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تاثر کو درست کرنے کی بنیادی ضرورت ہے ورنہ اس اتحاد کی سو فیصد افادیت شاید ممکن نہ رہے۔ سعودی عرب کے زیر انتظام اور اس کے ملک سے اس قسم کی تقریر سفارتی آداب کے شاید کوئی زیادہ موافق بھی نہیں تھی۔

اسلامی اتحاد میں شامل ممالک

سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، پاکستان، بحرین، بنگلہ دیش، ترکی، مغربی افریقائی ملک بنن، چاڈ، ٹوگو، تیونس، جبوبتی، سنیگال، سوڈان، سیرا لیون، صومالیہ، گبون، گنی، فلسطین، کومورس، قطر، لیبنان، لبیا، مالدیپ، مالی، ملائشیا، مصر، مراکش، موریطانیہ، نائجر، نائجیریہ اور یمن اس اتحاد میں شامل ہیں۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ان ممالک کے علاوہ انڈونیشیا سمیت دس دیگر ممالک نے اس اتحاد کی حمایت کی ہے۔ سعودی شاہ نے گذشتہ دنوں ہی انڈونیشیا کا ایک تفصیلی اور طویل دورہ کیا تھا جس کے دوران تعاون کے کئی معاہدوں ہر دستخط کیے گئے لیکن ساتھ میں اس اتحاد کے لیے حمایت کی بھی طلب تھی۔

ان ممالک نے اس انسداد دہشت گردی کے اس اتحاد کا مشترکہ کارروائی کا مرکز ریاض میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے علاوہ اتحاد امن پسند دوست ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کے لیے رابطے کرے گا تاکہ بین الاقوامی سطح پر امن اور سکیورٹی کو برقرار دکھا جائے لیکن اس اسلامی فورس کی تعداد کیا ہوگی یہ ابھی واضح نہیں۔ پھر اعلامیے میں بدعنوانی یا کرپشن کا بھی ذکر ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ اس سے مراد اخلاقی بدعنوانی ہے یا معاشی؟

ایران کی مخالفت

ایران آغاز سے ہی اس اتحاد کے تصور کے حق میں نہیں ہے۔ اس نے پاکستان کی جانب سے ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو اس عسکری اتحاد کا سپہ سالار بنانے پر اپنے تحفظات کا برملا اظہار کیا تھا۔

ایران کا موقف تھا کہ مسائل کے حل کے لیے عسکری نہیں سیاسی کوششوں کی ضرورت ہے۔

راحیل شریف تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایران نے پاکستان کی جانب سے ریٹائرڈ جنرل راحیل شریف کو اس عسکری اتحاد کا سپہ سالار بنانے پر اپنے تحفظات کا برملا اظہار کیا

ایران اور سعودی عرب 1979کے ایرانی انقلاب کے بعد سے ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔

اس انقلاب کے بعد جہاں ایران نے مختلف ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ میں شیعہ سیاسی جماعتوں اور ملیشیاؤں کی حمایت اور مدد کرنا شروع کی وہیں سعودی عرب نے بھی سنی حکومتوں اور جماعتوں کی مدد شروع کر دی اور اپنے سخت گیر اسلام کو فروغ دینا شروع کر دیا۔

اس کے بعد سے دونوں ممالک ہر علاقائی قضیے میں جیسے کہ شام، عراق اور یمن میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہونے لگے۔

ماضی کے اتحاد

مشرق وسطیٰ میں اس سے قبل بھی عسکری اتحاد کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ ان میں سے دو میں سعودی عرب بھی شامل تھا۔ ان میں سے کسی میں بھی اسلامی فوج کا نام یا اتنی بڑی تعداد میں اراکین شامل نہیں تھے لیکن ان میں سے کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں رہی۔

ان تنظیموں میں عرب لیگ کا مشترکہ ڈیفنس پیکٹ، مڈل ایسٹ کمانڈ، مڈل ایسٹ ڈیفینس آرگنائزیشن، بغداد معاہدہ یا مڈل ایسٹ ٹریٹی آرگنائزیشن اور خیلیجی ممالک کی تعاون کونسل شامل ہیں۔

سنہ 2011 میں عرب ممالک میں عوام کے اٹھ کھڑے ہونے اور حکومتیں گرانے کے عمل کے آغاز کے بعد سعودی عرب کی یہ عسکری اتحاد بنانے کی تیسری کوشش ہے۔

اسلامی ممالک میں ہونے والی اتھل پتھل کا خوف ہے یا ہمسایہ ملک یمن میں جاری لڑائی، سعودی عرب کو اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدید تشویش لاحق ہے۔ معاشی میدان میں بھی سعودی عرب کی حالت کافی خراب بتائی جاتی ہے۔

ایران تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعودی عرب نے مصر کے ساتھ مل کر عرب لیگ کی چھتری تلے مشترکہ انسداد دہشت گردی فورس قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس فورس میں سپاہیوں کی تعداد چالیس ہزار رکھی گئی تھی۔ لیکن رہنماؤں کے اس کے حق میں بیانات کے برعکس یہ فورس 2015 سے جمود کا شکار ہے۔

سعودی عرب کو درپیش خطرات

خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم نے ایک یا دو نہیں بلکہ کئی مرتبہ سعودی عرب کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔

اسلامی اتحاد کے قیام کے اعلان کے بعد دولت اسلامیہ نے تازہ دھمکی بھی ایک ویڈیو میں جاری کی جس میں ایک سعودی شہری کو جاسوس قرار دے کر قتل کر دیا گیا۔

پچھلے دو سالوں میں دولت اسلامیہ سعوی عرب میں درجن بھر حملے کیے جن میں پچاس افراد ہلاک ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق داعش میں تقریباً تین ہزار سعودی رکن ہیں۔

دولت اسلامیہ کے علاوہ سعودی عرب کے دروازے پر یمن ایک خطرہ بن کر کھڑا ہے۔

القاعدہ کے ہوثیوں کے علاوہ سعودی شاہی خاندان بھی ہدف پر ہے۔ القاعدہ کی عرب شاخ سعودی شہزادے محمد بن نائف پر ایک حملے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اس تنظیم کے یمن میں ایک تہائی اراکین سعودی باشندے بتائے جاتے ہیں۔

سعودی عرب کی اپنی فوج

ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سعودی عرب کے دوران دونوں ممالک نے ایک ارب ڈالرز سے زائد کے دفاعی سامان کی فراہمی کے معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔ ان میں سرحدی سکیورٹی کے لیے ٹینک اور ہیلی کاپٹرز، جنگی بحری کشتیاں، جاسوسی کے طیارے اور آن لائن سکیورٹی کی فراہمی شامل ہے۔

اس کی بڑی وجہ سعودی عرب کی اپنی فوج کا ایک فعال فورس نہ ہونا ہے۔ حالیہ برسوں میں تاہم اس نے اس پر خصوصی توجہ دینا شروع کی ہے اور فوج کی تعداد اور صلاحیت بڑھانے میں مگن ہے لیکن اس سے خطے میں کوئی اچھا تاثر پیدا نہیں ہو رہا ہے۔

ایران کے مذہبی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے ایک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو 'کافر امریکہ 'دودھ دینے والی ایک گائے' کی طرح استعمال کر رہا ہے۔ ’وہ کفار کے قریبی دوست ہیں اور دشمن کو وہ پیسے دے رہے ہیں جنھیں اپنے لوگوں کی بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔‘

ایسے حالات میں سعودی عرب کی جانب سے خطے میں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے یہ کوشش مشکل دکھائی دی رہی ہے کہ کچھ آگے بڑھ سکے۔ سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ آیا ایران اور سعودی عرب اپنی اثرورسوخ بڑھانے کی لڑائی کیا شام اور یمن تک محدود رکھ پائیں گے؟

دولت اسلامیہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دولت اسلامیہ نے کئی مرتبہ سعودی عرب کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے

سوالات

پاکستان کی جانب سے خود اشارے کچھ اچھے نہیں ہیں۔

جب اس اتحاد کا طریقہ کار اور دائر اختیار ہی واضح نہیں تو اس میں شمولیت کی اتنی جلدی کیا تھی؟ پاکستان کی اتحاد میں شمولیت کے لیے بنیادی شرط یہی تھی کہ یہ صرف اور صرف دہشت گردی کے خلاف سرگرم ہو گا لیکن اگر کسی ملک پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد ہوتا ہے تو ایسے میں پاکستان کا لائحہ عمل کیا ہو گا؟

سرتاج عزیز کہتے ہیں کہ پاکستانی فوج سعودی عرب سے باہر تعینات بھی نہیں ہوگی تو کیا سعودیوں کو یہ قابل قبول ہوگا؟

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سینیٹ میں بھی اس اتحاد سے متعلق دو اہم سوال اٹھائے ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جنرل راحیل کی تعیناتی کی شرائط کیا تھیں اور کیا حکومت اتحاد کے تبدیل ہوتے زاویوں کی بنا پر انہیں واپس بلانے کا اختیار رکھتی ہے یا نہیں؟

پاکستان نے ان سوالات کے واضح جواب ابھی نہیں دیے ہیں لیکن سینٹ چیرمین رضا ربانی نے حکومت کو گزشتہ برس منظور کی گئی ایک قرارداد کے تحت اس بات کا پابند بنایا ہے کہ وفاقی حکومت کی منظوری سے قبل تمام شرائط پارلیمان کے سامنے رکھی جائیں۔

لیکن اس اتحاد کے لیے سب سے بڑا سوال دہشت گردی کی کسی ایک تشریح پر اتفاق ہوگا؟ اقوام متحدہ کے اراکین کسی ایک تشریح پر متفق نہیں تو اسلامی ممالک کیسے اتنی آسانی سے کسی ایک پر متفق ہو سکیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں