نواز شریف کا پانچواں سال

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بس ایک پانامہ کا کھٹکا گذر جائے تو پانچواں برس بھی سامنے کھڑا ہے

اللہ رکھے میاں نواز شریف کے تیسرے دورِ اقتدار کا چوتھا برس مکمل ہوگیا۔ ایک ایسے سیاسی رہنما کے لئے یہ بہت بڑی کامیابی ہے جسے پچھلے دو ادوار میں چوتھا برس دیکھنا نصیب نہ ہوا ۔اس سے بھی بڑی کامیابی یہ ہے کہ میاں صاحب کی تیسرے دور کے تیسرے آرمی چیف کے ساتھ بھی نبھ رہی ہے۔ پہلے دور میں پہلے اور دوسرے دور میں دوسرے چیف نے انھیں مدتِ عہدہ مکمل کرنے نہیں دی۔

بس ایک پانامہ کا کھٹکا گذر جائے تو پانچواں برس بھی سامنے کھڑا ہے۔ ایسا ہوگیا تو ملک کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار ہوگا کہ دس برس میں مسلسل دوسری منتخب حکومت کی تکمیلِ مدت کے بعد تیسری منتخب حکومت کے لیے ووٹ پڑیں۔

تو کیا میاں نواز شریف چوتھی بار وزیرِ اعظم بننے کا بھی ریکارڈ قائم کریں گے؟ اس کا دار و مدار بڑی حد تک عمران خان پر ہے۔ اگر خان صاحب اسی طرح فیصلے کرتے رہے، اسی طرح پارٹی چلاتے رہے، اسی طرح ناک کی سیدھ میں دیکھتے رہے اور اسی طرح آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر آئینے کے اندر قید شخص کے مشوروں پر ہی عمل کرتے رہے تو میاں صاحب کے بارِ دگر مزے آ جائیں گے۔ اگر عمران خان نے آئینہ توڑ دیا تو حالات کرچی کرچی بھی ہو سکتے ہیں۔

عمران خان کے علاوہ نواز شریف کا دوسرا قابلِ ذکر حریف لوڈ شیڈنگ ہے۔ چار برس پہلے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اگلے پانچ برس میں اتنی بجلی بنے گی کہ گلی گلی کرنٹ دوڑے گا۔ اب اگر نگراں حکومت کے قیام سے پہلے پہلے لوڈ شیڈنگ زیرو نہ ہوئی تو کرنٹ تب بھی دوڑے گا مگر کہیں اور۔ اس بابت حکومت اور وقت کے درمیان دوڑ لگی ہوئی ہے اور فاصلہ صرف چند ماہ کا رہ گیا ہے۔

نواز شریف حکومت کے لئے سب سے سخت پہلا برس تھا جب سارا نظام دھرنو دھرنی دکھائی دے رہا تھا۔ اب بس پاناما کی کھائی پھلانگنا باقی ہے۔ اس کے بعد یہ بھی دیکھنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کنٹرول میں رہے اور دھشت گردی کا جن بوتل سے بہت زیادہ باہر نہ نکلے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر عمران خان نے آئینہ توڑ دیا تو حالات کرچی کرچی بھی ہو سکتے ہیں

انتخابی سال میں ایک نارمل سیاسی حکومت کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ گذرے برسوں میں جو ہوا سو ہوا، گڈگورننس اور میرٹ کلچر کے فروغ کا وعدہ پورا نہ ہو سکا چلو خیر ہے، پارلیمنٹ کو جتنی اہمیت ملنی چاہیے تھی نہیں ملی کوئی بات نہیں اگلی بار سہی، انتخابی شفافیت کے لیے متفقہ قانون سازی اور ایک خود مختار الیکشن کمیشن کا وعدہ پورا نہ ہو سکا، چلیے آج نہیں تو اگلی مدت میں ہو ہی جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد مسلسل سوالیہ نشان ہے تو کوئی بات نہیں دھشت گردی کے خلاف جوابی حکمتِ عملی پر عمل درآمد اکثر ناہموار ہی ہوتا ہے۔

یہاں تک تو معاملات قابلِ برداشت ہیں۔ بشرطیکہ انتخابی سال میں کوئی نیا اڑتا تیر پکڑنے سے بچا جائے۔ سیاسی لیبارٹری میں کوئی غلط گیس کسی درست مائع سے ملا کر نتائج دیکھنے کے شوق کو لگام میں رکھا جائے، کیلے کے چھلکے بیچ راستے میں نہ اچھالے جائیں، مفت کے معاشی پنگوں سے نہ الجھا جائے اور یہ کہ چوہدری نثار علی خان کو مسلسل ٹھنڈا پانی پلایا جاتا رہے اور خواجہ آصف وغیرہ کو منہ پر ازخود سکاچ ٹیپ لگانا بھی سکھایا جائے۔

اس کے علاوہ پوری کابینہ اور پارلیمانی پارٹی کے لئے ایک ہنگامی تربیتی ورکشاپ برپا کی جائے جس میں یہ مشق کرائی جائے کہ ہر بات کا جواب نہیں دیا جاتا، ہر الزام کے پیچھے بندوق لے کے نہیں بھاگا جاتا، مخالف کی ہر بات طنزیہ یا فضول نہیں ہوتی، جھوٹ اور آدھے سچ سے کہیں افضل خاموشی ہے اور یہ کہ ارسطو اور افلاطون ایک بار ہی پیدا ہوئے تھے لہٰذا ان کا باپ بننے سے پرہیز کیا جائے۔

مگر مشوروں اور احتیاطوں سے قطع نظر ایک شے ہوتی ہے قسمت۔۔۔ قسمت خراب تو چلتے اونٹ کے سوار کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے۔ قسمت مہربان تو کانگڑی پہلوان۔

اس تناظر میں قطیعت کے ساتھ کہنا مشکل ہے کہ میاں صاحب سیاست کے دھنی ہیں یا قسمت کے۔ بہرحال چوتھے برس کی تکمیل مبارک ہو۔

اسی بارے میں