بلوچستان: مستونگ میں فوجی کارروائی، ’12 شدت پسند ہلاک‘

فوج تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دہشتگرد غاروں میں چھپ کر حملوں کو منصوبہ بندی کر رہے تھے

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے سپلنجی میں گذشتہ دو روز میں انٹیلی جنس پر مبنی ایک آپریشن کیا ہے جس میں 12 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

اس آپریشن میں دو افسران سمیت پانچ سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں دہشت گرد غاروں میں چھپ کر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کا کہنا ہے کہ سویلین انتظامیہ کے ذرائع نے اس آپریشن کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ آپریشن ضلع مستونگ میں کوہ ماران اور گردونواح کے علاقوں میں کیا گیا ۔

بعض دیگر ذرائع کے مطابق جن چینی باشندوں کو کوئٹہ شہر سے جس گاڑی میں اغوا کیا گیا تھا وہ گاڑی اس علاقے سے برآمد کی گئی تھی۔

یہ آپریشن ایک روز قبل شروع کیا گیا تھا لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ آپریشن چینی باشندوں کی بازیابی کے لیے کیا گیا یا کسی شدت پسند تنظیم کے کارندوں کی موجودگی پر کیا گیا۔

دیگر ذرائع سے میڈیا کو جو معلومات فراہم کی گئیں ان کے مطابق اس علاقے میں ایک غار میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے دس کے قریب اعلیٰ تربیت یافتہ افراد کو گھیرے میں لیا گیا۔

ان ذرائع کے مطابق گھیرے میں لیے جانے والے شدت پسندوں میں نہ صرف دولت اسلامیہ سندھ کا کمانڈر بھی شامل ہے بلکہ یہ دولت اسلامیہ کا ایک اہم مرکز بھی ہے جس سے بلوچستان اورسندھ کے علاوہ بلوچستان سے متصل پنجاب کے سرحدی علاقوں میں دولت اسلامیہ کی کارروائیوں کو بھی کنٹرول کیا جاتا تھا۔

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اس غار کے قریب ایک اور غار سے چھ خود کش جیکٹس، بھاری مقدار میں اسلحہ اور کھانے پینے کی اشیا بھی برآمد کی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

واضح رہے کہ دو چینی باشندوں کو مئی کے آخر میں کوئٹہ شہر کے علاقے جناح روڈ سے اغوا کیا گیا تھا۔ چینی باشندوں کے کوئٹہ میں رہائش پذیر 6 سے زائد چینی باشندوں کو کراچی منتقل کیا گیا ہے۔

کوئٹہ پولیس کے ذرائع کے مطابق جن چینی باشندوں کو کراچی منتقل کیا گیا وہ گذشتہ ایک سال سے کوئٹہ میں رہائش پذیر تھے۔ کراچی منتقل کیے جانے والے چینی باشندوں کو جن شرائط کے تحت ویزا جاری کیا گیا تھا وہ اس کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تھے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ چینی باشندے بزنس ویزے پر آئے تھے لیکن ان میں سے ایسے کاموں سے وابستہ ہوئے تھے جو کہ ان کے ویزے کے شرائط کے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ ان میں سے بعض کوئٹہ میں زبان سکھانے والے ایک سینٹر سے وابستہ ہوگئے تھے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ کراچی منتقل کیے جانے والے چینی باشندوں کو واپس ان کا ملک بھیجا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں