ایک ہزار روپیہ ماہوار تنخواہ پانے والے نابینا ڈاکیا

پاکستان کے صوبہ خیبر پختوںخواہ کے ضلع ہری پور کے دور افتادہ گاؤں کچھی کے کئی خاندانوں کا اپنے پیاروں کے ساتھ رابطے کا واحد زریعہ علاقے کے نابینا ڈاکیا محمد انور عرف عام حافظ صاحب ہیں۔ وہ نہ صرف خاندانوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہیں بلکہ وہ ہر ماہ کئی گھروں میں نان نقطہ کے لیے منی آرڈر کے ذریعے بھجی جانے والی رقوم بھی پہنچاتے ہیں۔

حلیمہ بی بی کا بیٹا اشفاق الرحمن کراچی میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ وہ ہر ماہ اپنی والدہ اور بیوی بچوں کے اخراجات کے لیے پندرہ ہزار روپے بھیجتا ہے جو ہر ماہ پابندی سے انھیں پہنچ جاتے ہیں۔

حلیمہ بی بی کا کہنا تھا کہ جب بھی نیا مھینہ شروع ہوتا ہے تو مجھے، میری بہو اور تین پوتے پوتیوں کو حافظ صاحب کا انتظار ہوتا ہے اور وہ جب اپنی چھڑی سے دروازہ کھٹکا کر سلام کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ .... ’تمھارا منی آرڈر آگیا ہے تو ہمارے گھر میں خوشیاں پھیل جاتی ہیں۔‘

85 سالہ محمد احسان نے بتایا کہ حافظ صاحب طویل عرصے سے ہمارے گھروں میں خطوط اور منی آرڈر لارہے ہیں۔ ’مجھے ہر ماہ میرا پوتا دس ہزار روپے بھیجتا ہے جو کہ باقاعدگی سے مل جاتے ہیں۔ مگر اب حافظ صاحب اکثر کہتے ہیں کہ وہ تھک گے ہیں اور یہ کام نہیں کرسکتے جس پر مجھے دکھ ہوتا ہے اور میں سوچتا ہوں کہ میرا ماہوار کا خرچہ اب کون لا کر دے گا؟

محمد انور عرف حافظ صاحب کا کہنا تھا کہ اب انتہائی کم تنخواہ پر ملازمت صرف اس لیے کررہا ہوں کہ اس علاقے میں اتنی کم تنخواہ پر کوئی بھی ڈاک تقسیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا جس سے کئی خاندانوں کو تکلیف ہوگی۔

’ہر ماہ کم از کم چار لاکھ روپے کے منی آرڈر تقسیم کرتا ہوں اور روزانہ تیس سے چالیس خط ہوتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’مگر اب 39سال بعد کام کرنے کا دل نہیں چاہتا بلکہ زندگی کے آخری دن آرام کرنا چاہتا ہوں کیونکہ اب زمانہ اور اخلاقی اقدار بھی بدل گئی ہیں۔‘

’پہلے جب میں ڈاک لینے پانچ کلو میٹر دور ککوتری کے ڈاکخانے جاتا تھا تو آتے جاتے علاقے کا کوئی بھی چھوٹا ، بڑا میرا ہاتھ پکڑ لیتا تھا گپ شپ کرتے ہوئے مجھے منزل مقصود تک پہچنے میں مدد فراہم کرتے تھے۔ مگر اب کسی کے پاس اتناوقت نہیں ہوتا کہ وہ بوڑھے اور نابینا کا ہاتھ پکڑے کیونکہ ہر ایک کو اپنے کام کی جلدی ہوتی ہے وہ میری پرواہ کیوں کرنے لگیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’چند سال پہلے تک بسیں چلا کرتی تھیں میں روڈ پر چل رہا ہوتا یا کھڑا ہوتا تو ڈرائیور بس روک کر مجھے بیٹھایا کرتے تھے اور مسافر جگہ خالی کرکے بیٹھے کی جگہ دیتے تھے۔ مگر اب تو ویگینوں اور چھوٹی گاڑیوں کا دور ہے۔ وہ مجھ نابینا ڈاکیا کو بیٹھانے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سواریاں پوری ہوتی ہیں اور وہ جگہ بھی نہیں دیتی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ کئی سال بعد بھی میری ماہوار تنخواہ صرف ایک ہزار چالیس روپیہ ہے جس میں گذشتہ سات سال سے کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔

واضح رہے کہ محکمہ ڈاک خانہ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام چلتا ہے اور وفاقی حکومت نے سال 2016 میں غیر ہنر مند افراد کی کم ازکم تنخواہ 13 ہزار روپیہ مقرر کی تھی۔

محمد انور عرف حافظ صاحب 55روپیہ ماہوار پر عارضی بنیادوں پر بھرتی ہوئے تھے۔ بارش ہو یا سخت گرمی یہ روزانہ اپنے ڈاک کے بستے اور بید کی چھڑی کے ہمراہ ککوتری کے ڈاک خانے سے ڈاک وصول کرنے کے لیے صبح سویرے چل پڑتے ہیں۔ ناہموار راستوں میں بید کی چھڑی ان کی مددگار ہوتی ہے ۔

دوپہر تک واپس آکر مغرب اور کبھی کھبار تو رات گے تک مختلف گھروں میں ڈاک تقسیم کرتے ہیں کیونکہ دور دراز علاقے میں گھر بکھرے ہوئے اور دور ہوتے ہیں۔

محکمہ ڈاک خانہ ہری پور کے ذرائع کا کہنا تھا کہ وہ محمد انور عرف حافظ صاحب کی تنخواہ کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہنا چاہتے ہیں۔