ایورسٹ ڈائری:’جہاں آکسیجن سلینڈر ہی زندگی کی ضمانت ہوں‘

کوہ پیما تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان کوہ پیما سعد محمد دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی مہم پر روانہ ہوئے تھے تاہم انھیں نامراد لوٹنا پڑا۔ سعد اس سفر کے دوران بی بی سی اردو کے لیے تصویری و تحریری ڈائری کی شکل میں اپنے تجربات شیئر کرتے رہے۔ اس سلسلے میں ایورسٹ ڈائری کی آخری قسط پیش خدمت ہے۔

بیس کیمپ سے کیمپ ون کی طرف روانہ ہوں تو نکلتے ہی کھمبو گلیشیئر سے پالا پڑتا ہے۔ یہ ایک عجیب دنیا ہے جہاں برف کا ایک وسیع دریا شدید ڈھلوانی علاقے کی وجہ سے ٹیلوں اور دراڑوں کی شکل میں کرچی کرچی ہوگیا ہے۔

مخصوص شرپا جنھیں آئس ڈاکٹر کہا جاتا ہے ان برفانی بھول بھلیوں میں ہر سال راستہ تراشتے ہیں۔ اگرچہ راستے پر متواتر رسی بندھی ہوئی ہوتی ہے لیکن پھر بھی یہ حد سے زیادہ دشوار گزار ہے اور ہر وقت برفانی تودے گرنے کا ڈر رہتا ہے۔

’پہلے ملی نغمے اور پھر چٹیاں کلائیاں‘

ایورسٹ ڈائری: کھمبو گلیشیئر پر

ایورسٹ بیس کیمپ کے راستے میں:ویڈیو

ایورسٹ ڈائری: بیس کیمپ سے تین دن دور

کھمبو کریوس تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

کھمبو گلیشیئر کا ایک اور خاصہ اس کے پرخطر کریوس یا دراڑیں ہیں۔

جہاں یہ دراڑیں بہت چوڑی نہ ہوں وہاں المونیم کی سیڑھی کی مدد سے یہ شگاف عبور کر لیے جاتے ہیں۔

سیڑھی کو رسی کی مدد سے برف میں مضبوطی سے گاڑ دیا جاتا ہے مگر اس پر چلنے کے لیے دل گردہ درکار ہے کیونکہ ذرا سی بھی غلطی کے نتیجے میں آپ زندگی سے ہاتھ دھو سکتے ہیں۔

سعد محمد تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

کیمپ ون سے آگے برف کا ایک وسیع میدان ہے جس کو پار کرتے کرتے آپ نڈھال ہو جاتے ہیں۔

اگر دوپہر کو تپتی دھوپ میں یہ سفر کیا جائے تو پیاس سے برا حال ہو جاتا ہے۔

البتہ یہاں صبح کے وقت موسم خاصا خوشگوار ہوتا ہے۔

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

کیمپ ٹو سے آگے پہاڑ ایک دیوار کی مانند راستہ روکے کھڑا ہے۔

یہ مقام 6400 میٹر کی بلندی پر ہے۔ یہاں سے کیمپ تھری واضح طور پر نظر تو آتا ہے لیکن وہ ہرگز قریب نہیں ہے۔

کیمپ ٹو پر زمین پھر کچھ ہموار ہے اور خیمے سے باہر نکل کر گھوما پھرا جا سکتا ہے لیکن کیمپ تھری میں ایسی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔

آکسیجن سلینڈر تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

کیمپ فور اور اس سے آگے آکسیجن کے سلینڈر ہی زندگی کی ضمانت ہیں۔

شرپا انھیں کیمپ فور تک پہنچاتے ہیں اور اب چوٹی سر کرنے کے لیے آخری ہلہ بولا جاتا ہے تب انھیں استعمال کیا جاتا ہے۔

میرے ساتھی پاکستانی کوہ پیما لیفٹیننٹ کرنل (ر) عبدالجبار بھٹی کے شرپا نے نہ جانے کیوں تین کی جگہ دو سلینڈر اٹھائے جس کے نتیجے میں ان لوگوں کے ساتھ چوٹی کے نزدیک حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے دونوں کے ہاتھوں پر شدید فراسٹ بائٹ ہو گئی۔

ایورسٹ ڈائری تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

جب عبدالجبار بھٹی کیمپ فور پہنچے تو اس وقت میں کیمپ تھری میں تھا۔ وہ تو وہاں سے چوٹی سر کرنے کے لیے روانہ ہوئے مگر مجھے چند وجوہات کی بنا پر نیچے کیمپ ٹو میں آنا پڑا۔

جب ان کے لاپتہ ہونے کی خبر آئی تو میں دوبارہ کیمپ تھری میں جانے کے لیے پر تول رہا تھا۔

اس وقت مجھے بیس کیمپ سے پیغام آیا اور تاشی نامی شرپا نے بھی جو خود ایک منجھا ہوا کوہ پیما ہے مجھے سمجھا بجھا کر مزید نیچے جانے کے لیے قائل کر لیا۔

ہیلی ریسکیو تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

اگلی صبح پہلے بھٹی صاحب اور پھر ان کے شرپا کو بھی ہیلی کاپٹر کی مدد سے بیس کیمپ منتقل کر دیا گیا۔ ریسکیو ہیلی کاپٹر نے بھٹی صاحب کو کیمپ تھری سے 'لانگ لائن' کے ذریعے اٹھایا اور سیدھا بیس کیمپ میں اتار دیا۔

بھٹی صاحب نے اس سے پچھلی رات 8600 میٹر کی بلندی پر نہ صرف سو کر گزاری بلکہ وہ صبح اپنے پیروں پر چل کر کیمپ فور تک آئے تھے۔

وہ شاید تاریخ میں پہلے انسان ہیں جو اتنی بلندی پر بغیر آکسیجن سونے کے بعد بھی زندہ رہا کیونکہ آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر اگر آپ بغیر آکسیجن کے نیند کی آغوش میں چلے گئے تو یہ یقینی طور پر موت کے منہ میں جانے کے برابر ہے۔

سعد محمد اور عبدالجبار بھٹی تصویر کے کاپی رائٹ Sa'ad Mohamed

ویسے تو جتنی سیر میں نے ہیلی کاپٹر میں کر لی اس کے بعد ایسا لگتا ہے کہ پیسے پورے ہوگئے لیکن منزل کے اتنے قریب آ کر نامراد واپس لوٹ جانے پر مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا۔

دل اس خیال سے بہل جاتا ہے کہ اس میں ضرور کوئی بہتری ہوگی۔ امید یہی ہے کہ میں جلد واپس نیپال جاؤں گا اور اپنا یہ ادھورا خواب پورا کروں گا۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں