قطر سعودی عرب کے تنازع میں پھنسے پاکستانی مسافر

پاکستانی مسافر تصویر کے کاپی رائٹ shoukat

سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک کی جانب سے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے اعلان کے بعد سے قطر ایئرویز پر سفر کرنے والے جن مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے ان میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں سے قطر ایئرویز سے سعودی عرب جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد دوحہ کے ایئرپورٹ پر پھنس گئی ہے۔

٭ چھ ممالک کا قطر سے سفارتی تعلق ختم کرنے کا اعلان

٭ قطر سے قطع تعلق کے نتیجے میں کیا کچھ داؤ پر ہے؟

٭ قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

ان مسافروں میں شامل محمد شوکت نے واٹس ایپ پر پیغامات کے ذریعے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لوگ پیر کی صبح تقریباً چار بج کر چالیس منٹ پر کراچی سے قطر ایئرویز کی فلائٹ کے ذریعے دوحہ پہنچے تھے اور اس کے بعد سے ایئر پورٹ کے اندر پھنس گئے ہیں۔

محمد شوکت نے بتایا کہ اس پرواز میں خواتین سمیت 11 افراد دوحہ پہنچے اور انھوں نے مقامی وقت کے مطابق نو بجے جدہ کے لیے روانہ ہونا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ وہ زائرین ہیں اور عمرہ کرنے سعودی عرب جا رہے تھے اور احرام بھی باندھ لیا تھا لیکن تقریباً 24 گھنٹے سے ایئرپورٹ کے اندر انتظار کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ shoukat

محمد شوکت کے مطابق اس وقت پاکستان کے دوسروں شہروں سے سعودی عرب جانے والے تقریباً 70 کے قریب مسافر ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ قطر ایئرویز کے عملے نے ان سے رابطہ کیا ہے اور انھیں بتایا ہے کہ وہ کسی دوسری ایئرلائن کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ انھیں سعودی عرب روانہ کیا جا سکے۔

قطر میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے کی جانب سے رابطے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ابھی تک کسی نے ہم سے رابطہ نہیں کیا تاہم پی آئی اے کا عملہ ہمارے پاس آیا تھا اور معلومات لینے کے بعد یہ کہہ کر چلا گیا ہے کہ وہ پرواز کا بندوبست کرتے ہیں۔

محمد شوکت نے بتایا کہ روزے کی حالت میں ایئرپورٹ پر انتظار کرنا انتہائی تکلیف دہ ہے اور خاص کر بچوں اور خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک اور مسافر سہیل قرار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیر کی صبح سے قطر ایئرویز سے درخواست کر رہے ہیں کہ ہمیں یہاں سے نکالا جائے یا ہمارا پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کرایا جائے لیکن’ ہم ہمیں صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ آپ کے لیے کچھ کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ دوحہ پہنچے کے بعد انھیں صورتحال کا اندازہ ہوا لیکن اس کے کئی گھنٹے بعد بھی قطر ایئرویز کی دیگر پروازیں پاکستان سے یہاں پہنچیں جن میں سعودی عرب جانے والے مسافر سوار تھے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پہلے سے اقدامات کرتے ہوئے مزید پاکستانیوں کو پریشان ہونے سے بچائے ’کیونکہ تقریباً قطر کے مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے کے قریب ان کی فلائٹ دوحہ پہنچی تو صورتحال تبدیل ہو چکی تھی لیکن اس کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد پاکستان سے ایک اور فلائٹ دوحہ پہنچی تو اس میں بھی سعودی عرب جانے والے مسافر سوار تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Shukat

خیال رہے کہ پاکستان میں ماہِ رمضان میں عمرے کی ادائیگی کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد قطر اور متحدہ عرب امارات کی ایئرلائنز سے سعودی عرب جاتی ہے۔ اس کے علاوہ روزگار کے سلسلے میں جانے والے شہری بھی ان ہی ممالک کی ایئر لائن کو زیادہ استعمال کرتے تھے۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات میں شامل ریاست ابوظہبی کی سرکاری فضائی کمپنی اتحاد ایئرویز نے منگل کی صبح سے دوحہ کے لیے تمام پروازیں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد ایئرویز کی چار پروازیں روزانہ دوحہ جاتی ہیں۔

اتحاد ایئرویز کے اس اعلان کے بعد دبئی کی فضائی کمپنی امارات کے علاوہ بجٹ ایئرلائن فلائی دبئی، بحرین کی گلف ایئر اور مصر کی ایجپٹ ایئر کی جانب سے بھی ایسے ہی اعلانات کیے گئے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے کہا ہے کہ وہ قطر سے آنے اور وہاں جانے والی پروازیں بند کر دیں گے اور قطری فضائی کمپنی قطر ایئرویز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں