’حسین نواز کی تصویر لیک کیسے ہوئی‘، جے آئی ٹی سے جواب طلب

حسین نواز تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تفتیش کے دوران کسی بھی فرد کی تصویر یا ویڈیو بنانا نہ صرف خلاف قانون ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق وزیراعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اُن سے اگلے چار روز میں جواب طلب کرلیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے یہ نوٹس وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر دیا گیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس تصویر کو جاری کرنے کا مقصد تفتیش کے لیے پیش ہونے والے افراد کو نہ صرف دباؤ میں لانا ہے بلکہ اُن کے لیے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

* حسین نواز کی جے آئی ٹی کے سامنے دوسری پیشی

* حسین نواز کو آج جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا نوٹس

* جے آئی ٹی کے ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات مسترد

* پاناما لیکس :حسین نواز کے ٹی وی انٹرویو کا مسودہ طلب

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ تفتیش کے دوران کسی بھی فرد کی تصویر یا ویڈیو بنانا نہ صرف خلاف قانون ہے بلکہ سپریم کورٹ کے اسی بینچ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے جنھوں نے واضح احکامات جاری کیے تھے کہ کسی شخص سے تفتیش کے دوران انسانی عظمت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔

حسین نواز کی یہ تصویر اس وقت کی ہے جب وہ آخری بار مشترکہ تحققیاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ حسین نواز کی یہ تصویر سرکاری ٹی وی سمیت نجی ٹی وی چینلز میں دکھانے کے علاوہ مختلف اخبارات کی بھی زینت بنی تھی۔

بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ اُن کا پوائنٹ نوٹ کرلیا گیا ہے جس کے بعد عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ سے اس درخواست پر جواب طلب کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جو بھی مشکلات ہیں لیکن اس مقدمے کی تفتیش دو ماہ میں مکمل ہونی ہے

اس سے پہلے بھی پاناما لیکس کے معاملے پر تحقیقات کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے شریف خاندان کے کاروباری شراکت دار طارق شفیع سے ہونے والی تفتیش کے دوران بنائی گئی ویڈیو کے بارے میں درخواست دائر کی گئی تھی۔

اس درخواست میں جے آئی ٹی میں شامل دو افراد بلال رسول اور عامر عزیز پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔

پانامالیکس کی تحقیقاتی ٹیم نے بدھ کے روز اپنی دوسری رپورٹ عدالت میں جمع کروادی ہے اس رپورٹ کے ساتھ اس معاملے کی تفتیش میں رکاوٹوں کا ذکر کیا گیا ہے جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ اگر رکاوٹیں ہیں تو پھر اس کو خفیہ رپورٹ کے ساتھ لف کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ایک الگ سے درخواست دائر کی جائے جس پر اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جو بھی مشکلات ہیں لیکن اس مقدمے کی تفتیش دو ماہ میں مکمل ہونی ہے اور ایک دن بھی مقررہ تاریخ سے اوپر نہیں دیا جائے گا۔

دوسری جانب جے آئی ٹی نے وزیر اعظم کے صاحبزادوں کو دس جون کو دوبارہ پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں