’متوسط طبقہ ایک طرز زندگی ہے‘

طبقہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ورلڈ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی تعداد میں 'حیرت انگیز' حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے

اگر آپ پاکستان کے کسی بڑے شہر میں بجٹ پیش ہونے سے چند دن پہلے یا چند دن بعد میں شام کے وقت ٹیلی ویژن پر چلنے والے نجی چینلز کی نشریات دیکھیں یا اخبارات پڑھیں تو آپ کو جو لفظ ہزاروں بار سننے کو اور پڑھنے کو ملے گا وہ ہوگا ’عام آدمی‘، یعنی وہ لوگ جن کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔

ٹی وی میزبانوں کی گفتگو اور اداریوں کا متن اکثر و بیشتر ’عام آدمی‘ کے ارد گرد گھومتا ہے جہاں وہ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی کا رونا رو رہے ہوتے ہیں، اور وہ کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ کسی طرح ان کی تنقید کے توسط سے حکام بالا تک یہ بات پہنچ جائے کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے متوسط طبقے یا سفید پوش گھرانوں کا جینا اجیرن ہو گیا ہے اور کس طرح سے ایک عام آدمی اب کم تنخواہ پر بمشکل اپنے گھر والوں کو زندگی کی ضروریات و آسائش فراہم کر سکتا ہے۔

لیکن اگر پاکستان کے سٹیٹ بینک کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ اور ورلڈ بینک کی گذشتہ سال نومبر میں پاکستان کے معاشی حالات کے بارے میں جاری کی گئی رپورٹ کو پڑھا جائے تو صورتحال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔

سٹیٹ بینک کی ’پاکستان کی معاشی حالت‘ کے عنوان سے جاری کی گئی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ گذشتہ سال کے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں صارفین میں دیرپا اشیائے صرف جیسے گاڑیاں اور برقی آلات خریدنے اور بینکوں سے چھوٹے قرضے لینے کا رجحان واضح طور پر بڑھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر در نایاب کے مطابق اس اضافے کا تعلق حکومت کی پالیسیوں سے زیادہ لوگوں کے بدلتے ہوئے طرز زندگی سے منسلک ہے

دوسری جانب ورلڈ بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی تعداد میں ’حیرت انگیز‘ حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سنہ 2002 میں 64 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی لیکن 15 سال بعد ان کی تعداد گھٹ کر اب صرف 29 فیصد رہ گئی ہے۔

معاشی ماہرین اور محقیقن کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں متوسط طبقہ ناپنے کا آسان طریقہ ہے کہ جو کوئی اپنی آمدنی میں کھانے پر خرچ کم کر کے دوسری اشیائے صرف اور بہتر طرز زندگی کے حصول کے لیے رقم خرچ کر سکتا ہے، وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔

سٹیٹ بینک کی رپورٹ میں یہ بات اعداد و شمار کی مدد سے ثابت ہوتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں گاڑیوں کی فروخت میں 11 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح، متوسط طبقے کی ایک بڑی تعداد نقل و حرکت کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے موٹر سائیکل کا استعمال کرتی ہے اور رپورٹ کے مطابق ان کی فروخت میں بھی 21 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ برقی اشیا کی فروخت میں بھی 14 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس میں ڈیپ فریزر قابل ذکر تھے جن کی فروخت میں 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر برائے تجارت خرم دستگیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان میں ہم سب کے سمجھنے کے لیے یہ ایک بڑی اہم بات ہے کہ متوسط طبقے کی تعداد میں بڑا اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید بڑھی ہے اور یہی وجہ کہ مقامی برانڈز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption معاشی ماہر اکبر زیدی اپنے حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستان میں غربت میں کمی ہونا ایک مثبت تبدیلی ہے

مختلف ماہرین اور محقیقن کی جانب سے کی گئی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صدی کے آغاز میں جب پاکستان کی آبادی 14 کروڑ کے قریب تھی تو اس وقت ملک کی آبادی کا 29 فیصد حصہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا لیکن اب سنہ 2016 کے تخمینوں کے مطابق پاکستان کی آبادی بڑھ کر اب 20 کروڑ ہو چکی ہے اور اس کا 38 فیصد حصہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔

لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ متوسط طبقے میں اتنا اضافہ کیسے ممکن ہوا اور کیا یہ اضافہ اور غربت میں کمی حقیقی طور پر ملک کے بہتر معاشی حالات کی درست عکاسی کرتی بھی ہے یا نہیں؟

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمینٹ اکنامکس کی مشترکہ ڈائریکٹر اور متوسط طبقہ پر جامع تحقیق کرنے والی ڈاکٹر در نایاب کا کہنا ہے کہ متوسط طبقہ میں اضافہ کوئی حالیہ عمل نہیں ہے بلکہ یہ سلسلہ تقریباً دو دہایئوں سے جاری ہے۔

’مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستان میں متوسط طبقہ میں اضافہ جاری رہے گا۔ اس طبقہ میں اضافہ اُس وقت بھی ہو رہا تھا جب ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ اور شرح نمو میں کمی ہو رہی تھی۔‘

ڈاکٹر در نایاب کے مطابق اس اضافے کا تعلق حکومت کی پالیسیوں سے زیادہ لوگوں کے بدلتے ہوئے طرز زندگی سے منسلک ہے۔

متوسط طبقے کی تشریح کرتے ہوئے ڈاکٹر در نایاب نے کہا کہ متوسط طبقہ درحقیقت ایک طرز زندگی اور آگے بڑھنے کی خواہشات کے بارے میں ہے۔ ’ایک دفعہ جب کوئی شخص مڈل کلاس کا حصہ بن جائے اور اسے اس طرز زندگی کی عادت ہو جائے تو وہ اس کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔‘

دوسری جانب معاشی ماہر اکبر زیدی اپنے حالیہ مضمون میں لکھا ہے کہ پاکستان میں غربت میں کمی ہونا ایک مثبت تبدیلی ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ سب ٹھیک ہے، شاید درست نہیں ہوگا۔

ان کے مطابق غربت کو کم کرنا نسبتاً آسان ہے لیکن حکومت کے لیے اصل چیلینج عدم مساوات میں کمی کرنا ہے جو کہ بے حد مشکل اور پیچیدہ عمل ہے۔ اکبر زیدی نے اس فرق کے بارے میں مزید لکھا کہ امیر کی امیری میں اضافہ اور غریب کی غربت میں اضافہ ضرور ہو رہا ہے کہ لیکن جو لوگ نچلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ان کو غریب نہیں شمار کیا جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال کے اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں صارفین میں دیرپا اشیائے صرف جیسے گاڑیاں اور برقی آلات خریدنے کا رجحان واضح طور پر بڑھا ہے۔

ورلڈ بینک کی تحقیق بھی اسی بات کی جانب اشارہ کرتی ہی۔ ان کی رپورٹ کے مطابق ملک میں غربت کی واضح کمی کے باوجود عوام کی فلاح و بہبود میں خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق سنہ 2010 سے ملک میں شرح خواندگی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور میٹرک پاس کرنے والے طلبا کا تناسب بھی نہیں بڑھا ہے۔

معاشی ماہر اسد سعید نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس جانب توجہ دلائی کہ تنخواہوں میں اضافہ ہونے سے قوت خرید میں قدرے بہتری آئی ہے لیکن یہ تبدیلی انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کو دور نہیں کرتی۔ ’شاید حکومت کی پالیسیوں کا مقصد لوگوں کو شاپنگ مالز بھیجنے اور دوسری دیرپا اشیائے صرف خریدنے پر راغب کرنا ہے۔‘

ڈاکٹر درنایاب نے متوسط طبقے میں اضافے کو خوش آئند قرار دیا لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت کو عدم مساوات کی تفریق میں کمی کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں اور ان میں سب سے ضروری قدم سرکاری سکولوں کی حالتِ زار کو بہتر بنانا ہے۔

’حکومت کی توجہ صرف اعلی تعلیم اور ڈگریوں تک ہے لیکن جن سکولوں میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے جا سکتے ہیں، وہاں کا تعلیمی معیار اتنا ناقص ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔آگے بڑھنے کے لیے آسان ترین طریقہ اچھی تعلیم ہے اور مڈل کلاس کا مقصد ہی آگے بڑھنا ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں