’کہیں میرا بهی وہی حال نہ ہو جیسا مشال کا ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption مشال کے ساتھ توہین مذہب کے الزام میں زخمی ہونے والا ساتهی عبداللە جان کے ڈر کے مارے روپوش ہے

’اب یہ خوف رہتا ہے اگر میری کوئی بات کسی دوست کو بری لگ گئی یا میں نے کسی پر سوال اٹهایا تو میرا بهی وہی حال نہ ہو جیسا مشال کا ہوا‘۔ یە الفاظ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے چوبیس سالە طالب علم کے ہیں جو زراعت کے شعبے میں زیرِ تعلیم ہیں۔

مشال خان کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا ’مشال کو میں نے صرف ایک مرتبە یونیورسٹی میں دیکها لیکن جو اس کے دوست ہیں وە بهی اب اس کے بارے میں بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس واقعے کے بارے میں بات کرنے سے سب گهبراتے ہیں۔‘

* مشال خان کے قاتل کا عدالت میں جرم کا اعتراف

* ’مشال خان نے آخری لمحات میں کلمہ بھی پڑھ کر سنایا‘

میں نے طلبە اور یونیورسٹی کی انتظامیە میں جس سے بهی بات کی سب نے یہی کہا وە مشال کو اچهے سے نہیں جانتے اور تیرە اپریل کے واقع کے روز یا تو وە شہر سے باہر تهے یا چهٹّی پر۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کا کہنا تھا کہ سرچ آپریشن کی وجہ سے ہاسٹل سیل ہے

یونیورسٹی میں چهائے خوف کو دیکھ کر بظاہر محسوس ہوا جیسے آزادی رائے کا سبق دینے والے صحافت کے شعبے کے لوگوں کی زبان پر تالے پڑے ہوں۔

اس شعبے سے کوئی ایک کلو میٹر کے فاصلے پر ہاسٹل تها جہاں ایک کمرے میں مشال خان رہتا تها۔ وہاں پہنچی تو تین پولیس اہلکاروں نے اندر جانے سے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ سرچ آپریشن کی وجہ سے ہاسٹل سیل ہے۔ یقیناً ان کو سرچ آپریشن کے دوران مشال کے قتل کے بعد بهی کمرے میں دیوار پر چسپا چے گویرا اور کارل مارکس کے پوسٹرز بهی ملے ہوں گے۔ دیوار پر مشال کے قلم سے لکهے ہوئے یە کلمات بهی ’متجسس ، پاگل اور دیوانہ۔'

میں ہوسٹل کے دروازے کے سامنے والی تین سیڑهیوں سے نیچے اتر رہی تهی تو اس ویڈیو کے مناظر میری آنکهوں کے سامنے گهوم رہے تهے جس میں انہی سیڑهیوں سے خون میں لت پت مشال کو اس کے جنونی ساتهی گهسیٹ رہے تهے۔ جس کا دل چاہتا تها اسے لاتوں اور لکڑیوں سے مارتا۔ جب میدان پر اس جگہ پہنچی جہاں منہ کے بل بےجان مشال پڑا تها تو اسی ڈیپارمنٹ کا اضافی چارچ سنبهالنے والے معیار میں بہتری کے لیے بنے سیل ڈرایکٹر شیراز پراچە سے چند لمحے پہلے ہونے والی گفتگو کے بارے میں سوچا جس میں وە فخر سے بتاتے ہیں کہ اس یونیورسٹی کے پاس پی ایچ ڈی ہولڈر اساتذە کی تعدار لگ بهگ دو سو سے بهی زیادە ہے۔

Image caption ہم طلبە کو کہتے ہیں کە وە سکالر اور فلاسفر تو بنیں لیکن ہم زیادہ زور رپورٹر بننے اور تکنیکی تعلیم حاصل کرنے پر دیتے ہیں: شیراز پراچہ

ان کے مطابق ان کے ڈیپارمنٹ میں ہر مہینے طلبە کی میٹینگ کرائی جاتی ہے تاکہ ایک دوسرے سے اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت بچوں میں پیدا کی جا سکے۔

مشال خان کے قتل کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے تیرە رکنی پینچ کی رپورٹ کے مطابق مشال خان پر توہین مذہب کا جهوٹا الزام لگایا گیا۔ مشال کا قتل ایک سوچی سمجهی سازش تهی۔ پی ایس ایف کے صدر صابر اور یونیورسٹی کے اہلکار اجمل نے اختلاف رائے کی بنیاد پر ایک ماە قبل مبینہ طور پر مشال کے قتل کی سازش شروع کی۔

مشال کے ساتھ توہین مذہب کے الزام میں زخمی ہونے والا ساتهی عبداللە جان کے ڈر کے مارے روپوش ہے۔

اس سلسلے میں شیزاز پراچە کہتے ہیں وە جی آئی ٹی کی رپورٹ پر کوئی تبصرە نہیں کر سکتے۔ ’ابهی معاملہ آگے بڑهے گا۔ میڈیا ہمارا ہر وقت ہیڈلاینز کے چکر میں رہتا ہے۔ اگر عدالت کسی کو مجرم مانتی ہے تو اس کو سزا ضرور ملنی چاہیے۔'

انھوں نے مشال سے متعلق کہا 'میں اس کو زیادە نہیں جانتا تها۔ ایک دو مرتبە میرے دفتر میں یہ پوچهنے آیا کہ بجلی کیوں نہیں آرہی ، کلاس روم کب بہتر ہوں گے، یا ہمارا ڈیجیٹل سٹوڈیو کب کهلے گا، اس سے زیادە میں اسے نہیں جانتا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایسے واقعات کو دوبارە ہونے سے روکنے کے لیے جہاں گیٹ پر سیکورٹی سخت کر دی گی ہے

انھوں نے مزید کہا 'اس قتل کے ذریعے ہمارے ڈپارمنٹ پر حملە کیا گیا ہے۔ ہم تو متاثرین ہیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمارا ڈپارمنٹ خیبر پختونخوا میں سب سے بہترین اس طرح سے ہے کہ ہم طلبە کو کہتے ہیں کە وە سکالر اور فلاسفر تو بنیں لیکن ہم زیادہ زور رپورٹر بننے اور تکنیکی تعلیم حاصل کرنے پر دیتے ہیں۔`

انھوں نے یونیورسٹی کی بہتر ساکھ کے بارے میں بات کرنے میں زیادە وقت صرف کیا جبکە مشال خان کے ساتھ ہونے والے ظلم اور وجوہات پر بات کرنے سے ہچکچاتے رہے۔ واقعے کے ڈهائی مہینے بعد یونیورسٹی پچیس مارچ کو کهل تو گئی مگر طلبە کی حاضری معمول سے کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’مشعال کے دوست بھی اس واقعے کے بارے میں بات کرنے سے سب گهبراتے ہیں‘

اس کی توجیہہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا ’دیکهیئے رمضان ہے، گرمی ہے پهر چهٹیاں بهی آرہی ہیں تو بچے اس لیے نہیں آرہے مگر ہو سکتا ہے کہ مشال کے واقعے سے سہمے ہوئے ہوں مگر مجهے کسی نے یہ کہا نہیں ہے۔ ‘

انھوں نے بدعنوانی کے الزامات پر رائے دینے سےیہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اب معاملہ عدالت کے ہاتھ میں ہے۔

ایسے واقعات کو دوبارە ہونے سے روکنے کے لیے جہاں گیٹ پر سیکورٹی سخت کر دی گی ہے وہیں مشال کے ڈپارمنٹ میں طلبە کے والدین کے لیے ایک ڈیسک مقرر کیا گیا ہے تاکہ تینوں فریقین میں بہتر بات چیت کی راە ہموار ہو۔

اسی بارے میں