انتخابات سے قبل پی پی پی کی سیاسی منشور کی تیاری

بلاول تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آئندہ عام انتخابات کی تاریخ تو ابھی واضح نہیں ہے لیکن پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنی سی تیاریاں شروع کر دی ہیں اور جلسے جلوسوں میں تیزی لانے کے علاوہ اب انتخابی منشور کی تیاری کا بھی آغاز کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں پارٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت منشور کمیٹی کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

’پیپلز پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کی خبریں بے بنیاد ہیں‘

بی بی سی اردو کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر فرحت اللہ بابر، نفیسہ شاہ، عذرا فضل پیچوہو اور صابر بلوچ نے شرکت کی۔ سابق وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

یہ پہلی سیاسی جماعت ہے جس نے منشور کی تیاری کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

بیان کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے اور اس کا ووٹ بینک ملک کے ہر کونے میں موجود ہے۔

Image caption قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی عوام کے لیے ایک امید ہے اور ووٹر توقع رکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی ملک کو اندرونی اور بیرونی بحران سے نکال سکتی ہے۔ پیپلز پارٹی ملک کو جناح کا پاکستان بنانے کے لیے پر عزم ہے۔‘

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ منشور کمیٹی چاروں صوبوں میں پیپلزپارٹی کے نمائندوں سے ملاقات کرے گی۔

منشور کمیٹی کشمیر گلگت بلتستان اور فاٹا اراکین سے بھی مشاورت کرے گی۔

منشور کے خدوخال سے متعلق جماعت کا کہنا ہے کہ اس میں تمام طبقوں کو یکساں نمائندگی دی جائے گی۔ اقلیتوں کے حقوق کو پارٹی کے منشور میں اولین ترجیح دی جائے گی اور تعلیم صحت اور روزگار سب کے لیے کا پروگرام پیش کرے گی۔

زراعت، صنعت اور معیشت بھی پیپلز پارٹی کی پالیسیوں کا اہم حصہ رہے ہیں۔

اسی بارے میں