چینی باشندوں کی ہلاکت کی خبروں کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں: دفتر خارجہ

چینی باشندے تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دو چینی باشندوں کی ہلاکت کی ویڈیو جمعرات کو جاری کی گئی ہے اور انھیں 24 مئی کو کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاؤن سے اغوا کیا گیا تھا

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے اغوا کیے گئے دو چینی باشندوں کی ہلاکت کی خبروں کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں رہنے والی چینی شہری ہمارے قابل احترام مہمان اور بھائی ہیں اور ہم ان کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھیں گے۔

٭ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع پر چینی تشویش

* کوئٹہ سے دو چینی باشندے اغوا کر لیے گئے

دسوری جانب بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے اغوا کیے گئے دو چینی باشندوں کی لاشیں ملنے تک ان کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ان افراد کی ہلاکت کی جو ویڈیو جاری کی گئی ہے اسے دیکھنے بعد بظاہر ایسا لگتا ہے چینی باشندوں کو مار دیا گیا ہے لیکن ان کی ہلاکت کی سو فیصد تصدیق اس وقت کی جاسکتی ہے جب ان کی لاشیں ملیں۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ 'وہ ویڈیو میں نے بھی دیکھی ہے۔بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ وہ مارے گئے ہیں۔ یہ واقعہ انتہائی افسوناک ہے۔ چینی مغویوں کی ہلاکت کی 100 فیصد تصدیق اس وقت کی جا سکتی ہے جب ان کی لاشیں برآمد کی جائیں گی۔'

انھوں نے بتایا کہ تاحال ان مغویوں کی لاشیں نہیں ملی ہیں اور مستونگ کے اس علاقے میں تلاش کا عمل جاری ہے جہاں سے ان کے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد ہوئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وہی علاقہ ہے جہاں فوج نے گذشتہ دنوں آپریشن کے دوران کالعدم لشکر جھنگوی العالمی کے 12 شدت پسندوں کو ہلاک کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرفراز بگٹی کے مطابق چینی مغویوں کی ہلاکت کی 100 فیصد تصدیق اس وقت کی جا سکتی ہے جب ان کی لاشیں برآمد ہوں گی

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ مارے جانے والے شدت پسندوں میں سے چند ایسے بھی تھے جن کے دولتِ اسلامیہ کے ساتھ رابطوں کا بھی انکشاف ہوا تھا۔

واضح رہے کہ جن دو چینی باشندوں کی ہلاکت کی ویڈیو جمعرات کو جاری کی گئی ہے انھیں 24 مئی کو کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاؤن سے اغوا کیا گیا تھا۔

یہ دونوں کوئٹہ میں زبان سکھانے والے ایک مرکز سے وابستہ تھے اور اغوا کے وقت ایک اور چینی خاتون کے ہمراہ خریداری کے لیے بازار میں موجود تھے۔

اغوا کی کوشش کے دوران ایک شہری کی مزاحمت کے باعث ایک چینی خاتون اغوا ہونے سے بچ گئی تھی تاہم اغوا کار ایک چینی مرد اور خاتون کو لے جانے میں کامیاب رہے تھے۔ان افراد کے اغوا کے بعد کوئٹہ میں رہائش پذیر چھ سے زائد چینی باشندوں کو کراچی بھی منتقل کیا گیا ہے۔

کوئٹہ پولیس کے ذرائع کے مطابق جن چینی باشندوں کو کراچی لے جایا گیا وہ گذشتہ ایک سال سے کوئٹہ میں رہائش پذیر تھے تاہم انھیں جن شرائط کے تحت ویزے جاری کیے گئے تھے وہ ان کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی حکام ملک میں دولتِ اسلامیہ کے نیٹ ورک کی موجودگی سے انکار کرتے رہے ہیں

ادھر چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے اسے بلوچستان سے اغوا ہونے والے اپنے باشندوں کی ہلاکت کی خبروں پر تشویش ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

چینی خبر رساں ادارے ژنہوا چینی وزراتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ کا کہنا ہے ’ہم گذشتہ کئی دنوں سے مغویوں کو بازیاب کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔ چینی حکام ان خبروں کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور متعلقہ پاکستان حکام سے بھی رابطے میں ہیں۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’چین شہریوں کے اغوا اور کسی بھی قسم کے تشدد اور دہشت گردی کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔‘

اسی بارے میں