’جیسے عمران خان پی پی پی میں شامل ہو رہے ہوں‘

فردوس عاشق اعوان تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے موقع پر لی گئی تصویر

سوشلستان میں برطانوی انتخابات صفِ اول کے ٹرینڈ میں شامل ہیں جبکہ کرکٹ کے علاوہ استانہ کا ٹرینڈ بھی بحث کا حصہ ہے۔ مگر چونکہ برطانوی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر ہیں اس لیے پہلے اسی پر بات کریں گے۔

'بڑے مینڈیٹ کے چکر میں کوئی مینڈیٹ نہیں'

برطانوی سیاست میں جاری اتار چڑھاؤ ہر گزرتے دن کے ساتھ دلچسپ ہوتا جا رہا ہے اور ایسے لوگ جن کی سیاست میں دلچسپی کم تھی یا وہ سیاسی عمل میں براہِ راست حصہ نہیں لیتے ان کی دلچسپی بھی دیکھنے کے لائق ہے۔

مگر کیا یہ انتخابات منعقد کرانے کا مقصد پورا ہوا؟ اس موضوع پر برطانوی سوشل میڈیا پر رائے عامہ بہت حد تک ایک ہی جانب اشارہ دیتی ہے۔

چینل فور کے اینکر اور معروف صحافی جان سنو نے لکھا 'ٹریزا مے نے انتخابات منعقد کرانے کا اعلان بڑے مینڈیٹ کے حصول کے لیے کیا تھا تاکہ بریگزٹ مذاکرات شروع کیے جا سکیں مگر ان کے ہاتھ میں اب کوئی مینڈیٹ نہیں آیا ہے۔'

برطانوی لیبر پارٹی کے سابق رہنما ایڈ ملی بینڈ نے لکھا 'ہمیں معلوم ہے کہ ٹریزا مے برطانیہ کے لیے اب برگزٹ کے مذاکرات نہیں کر سکتیں کیونکہ انہوں نے ہمیں بتایا کہ اکثریت ختم ہونے سے اُن کے اختیار میں کمی واقع ہو گی اور ایسا ہی ہوا ہے۔'

شیکھر کپور نے لکھا 'ایسا ہی ہوتا ہے جب انتخابات یا ریفرینڈم کا اعلان اپنی طاقت کے امتحان کے لیے کرتے ہیں نہ عوام کی طاقت معلوم کرنے کے لیے۔'

مصطفیٰ قادری نے لکھا 'ایمانداری سے بات کریں تو لیبر پارٹی میں بہتری کی کافی گنجائش ہے مگر امید، معاشی جمہوریت کی سیاست کی جیت دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ کیمرون نے ہمیں ایک ریفرینڈم دیا جس کی ہمیں ضرورت نہیں تھی۔ مے نے عدم استحکام اور افراتفری دی جس کی ضرورت نہیں تھی۔'

پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف کا سفر

گذشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے پاکستان تحریکِ انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا جس پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جماعتیں تبدیل کرنے پر بحث ہوئی۔

پیپلز پارٹی ہی کے نذر محمد گوندل نے بھی پارٹی چھوڑ کر تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی اور اس پر بھی بہت سارے تبصرے سامنے آئے۔

جہاں پیپلز پارٹی کے حامیوں کی جانب سے اس تبدیلی پر تنقید کی گئی وہیں پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں میں سے بھی کئی اس پر ناراض نظر آئے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما رحمان ملک نے ٹویٹ کی کہ 'مسٹر گوندل کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو ٹی وی پر دیکھ کر میں نے نوٹ کیا کہ عمران خان کے ارد گرد موجود تمام لوگ یا تو پی پی پی کے سابق رہنما ہیں یا سابق وزرا ہیں جس سے یہ منظر ابھرتا ہے کہ عمران خان پی پی پی میں شامل ہو رہے ہیں۔'

اس ہفتے کی تصاویر

Image caption مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان جنہیں ایک مشتعل ہجوم نے 13 اپریل کو یونیورسٹی کے اندر فائرنگ اور تشدد کرکے ہلاک کر دیا تھا کی ہوسٹل میں موجود اشیا گذشتہ دنوں ان کے والدین کو واپس کی گئیں جن میں سے پیسے ان کے والد گن رہے ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عید کی آمد آمد ہے اور اس موقعے پر سویاں ہر گھر میں بنتی ہیں جس کی مانگ پوری کرنے کے لیے تیاریاں ابھی سے جاری ہیں۔