پاکستانی راجکمار کے لیے امریکی اعزاز

Image caption راجکمار یہ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں

راج کمار امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ’ایمرجنگ ینگ لیڈرز ایوارڈ‘ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ وہ دنیا کے اُن دس لیڈرزمیں شامل ہیں جنہیں رواں سال یہ ایوارڈ ملا ہے ۔

راجکمار کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقے تھرپارکر میں ہندو اقلیتی برادری سے ہے ۔انہیں یہ اعزاز اُن کی قائدانہ صلاحیتوں اور پاکستان میں مختلف شعبوں میں اُن کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دیا گیا ہے ۔

راجکمار نے حال ہی میں پاکستان کی یوتھ منسٹری کی جانب سے بھی بہترین کارکردگی کا ایوارڈ حاصل کیا ہے ۔

راجکمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں ’ایمرجنگ ینگ لیڈرز ایوارڈ‘ پاکستان میں امن کے فروغ، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ملک میں انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے کئی اقدامات کو سراہتے ہوئے دیا گیا ہے ۔

حال ہی میں واشنگٹن سے واپسی کے بعد انہوں نے پاکستان کا پہلا کراس بارڈر لٹریچر فیسٹیول منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اُن کا کہنا ہے ’ایکیسویں صدی میں کوئی بھی ملک غیر محفوظ سرحدیں کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔

پاکستان کو ترقی کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار رکھنے ہوں گے ۔لہذا امن کے فروغ میں نوجوان نسل کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کے بارے میں دنیا میں منفی تاثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ یہاں اقلیتیوں کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے

اسی بنیاد پر انہوں نے لٹریچر کو بنیاد بنا کر کراس بارڈر لٹریچر فیسٹیول کے انعقاد کا فیصلہ کیا ۔

راجکمار نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ’پاکستان کے بارے میں دنیا میں منفی تاثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ یہاں اقلیتیوں کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے ۔

یہ پاکستان کی ساکھ پر ایک سوالیہ نشان تھا ۔ میں نے اپنے آرٹیکل ’پاکستانی ہندو کی حیثیت سے میرا سفر‘ کے ذریعے دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کا تعلق ایک اقلیتی فرقے سے ہے اور ان کی کوششوں کا مقصد کسی حد تک ملکی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ عمر کوٹ میں ہندو آبادی زیادہ ہے لوگوں کو تشدد ، فرقہ واریت اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا سامنا کم و بیش ہی کرنا پڑتا ہے ۔ لیکن اپنی ذہانت کے بل بوتے پر جب انہیں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی ادارے زیبیسٹ (ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) کی جانب سے مکمل فنڈڈ سکالرشپ (وضیفہ) ملا تو راجکمار ایک نئے تجربے سے آشنا ہوئے ۔

ان کے نام کی وجہ سے لوگ انہیں پاکستانی ہونے کے باوجود انڈین سمجھتے تھے تبھی انہیں خیال آیا کہ امن کی کوشش اور انتہا پسندی کا خاتمہ توجہ طلب مسائل ہیں ۔

راجکمار کے مطابق میوزک، کھیل، آرٹ اور ڈائیلاگ کے ذریعے امن کا فروغ ان کا ایک ایسا پراجیکٹ تھا جس میں انہوں نے مختلف مذہبی حلقوں کے افراد میں چپقلش کم کرنے کی کوشش کی اور مختلف ورکشاپس کا انعقاد کروایا تا کہ فرقوں کے درمیان مذہب کی بنیاد پر دوریاں کم کی جا سکیں ۔

راجکمار نے اپنی دس رکنی ٹیم کے ساتھ مل کر آرٹ اور صوفی میوزک کے ذریعے امن کے پیغامات کا تبادلہ کیا۔’اوورآل پروموٹنگ پیس تھرو سپورٹس، آرٹ، میوزک اینڈ ڈائیلاگ‘ نامی اس پراجیکٹ کی فنڈنگ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ہوئی ۔

راج کمار پاکستان کے لیے امریکی ایکسچینج پروگراموں کے سابق شرکا کی تنظیم، پاکستان یو ایس الالمنائی نیٹ ورک کے جنرل سیکرٹری ہیں۔ یہ نیٹ ورک کمیونٹی سروس، کانفرنسوں، مستقبل کی جنریشنز کی راہنمائی اور طالبعلموں اور نوجوانوں کو ایکس چینج پروگراموں میں شرکت کے سلسلے میں مدد کرتا ہے ۔

یہ نیٹ ورک 2008 میں پاکستانی سفارت خانے نے امریکی ایکس چینج پروگراموں کے سابق شرکا کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لیے قائم کیا تھا ۔جس میں پاکستان سے 22 ہزار ارکان رجسٹرڈ ہیں ۔

2015 میں انڈیا میں ہونے والے دسویں گلوبل پیس یوتھ فیسٹیول میں راجکمار نے پاکستان کی نمائندگی کی ۔ 2017 میں انہوں نے گورننس اور ڈپلومیسی سے متعلق ہارورڈ میں ہونے والے پراجیکٹس میں شرکت کی ۔

راجکمار نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد میں انہوں نے اپنے ایک اور پراجیکٹ ’ویمن تھرو فلم‘ کے ذریعے پاکستان کی نوجوان لڑکیوں کو موبائل یا کیمروں پر ویڈیو فلم بنانے کی تربیت دی۔

پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے زیر اہتمام عام خواتین کی بھیجی ہوئی مختصر فلموں کا پہلا دو روزہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول رواں سال گیارہ اور بارہ مارچ کو منعقد کرایا جس میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی خواتین کی بھیجی ہوئی فلموں کی نمائش ہوئی اور بہترین فلموں کو ایوارڈ ز بھی دیئے گئے ۔

مختصر دورانیے کی اِن تمام فلموں میں، خواتین پر تشدد کم سنی کی شادیاں، صنفی امتیاز اور چائلڈ لیبر کے عنوانات پر دنیا بھر کی خواتین نے اپنی بنائی ہوئی فلموں کے ذریعے شرکت کی۔

پاکستان میں خواتین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے انہوں نے پاکستان یو ایس المنائی نیٹ ورک ، یو ایس ایمبیسی ، وائس آف نیو جینیریشن اور اپنے علاقے عمر کوٹ کی لوکل گورنمنٹ کے ساتھ مل کر خواتین کی فلاح کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔

انہوں عمر کوٹ میں اپنے پرجیکٹ ’ایمپاورنگ وومن تھرو نالج اینڈ آرگنائزیشن‘ کے ذریعے خواتین کو اُن کے حقوق کے بارے میں آگاہی سے متعلق تربیت دی تا کہ وہ یہ جان سکیں کہ پاکستان میں قانون انہیں کس طرح تحفظ فراہم کرتا ہے اور وہ کس طرح معاشرے میں خود پر ہونے والی نا انصافیوں سے لڑنے کے قابل بن سکتی ہیں۔

راجکمار کے مطابق 'صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی خواتین ایک ہی جیسے مسائل کا شکار ہیں ۔ پاکستان میں بھی عورت مظلوم ہے اور دنیا کی ہر عورت مردوں کے معاشرے میں کہیں نہ کہیں کمتر ہی سمجھی جاتی ہے‘ ۔

اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ خود کو پاکستانی امن کے سفیر کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور سول سروس جوائن کرنا انکا خواب ہے ۔