فوج قطر بھیجنے کی خبریں من گھڑت اور بے بنیاد ہیں: پاکستانی وزارت خارجہ

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں غیر ملکی میڈیا میں شائع ہونے والی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے انھیں ’من گھڑت اور بے بنیاد‘ قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی فوج کا دستہ تعیناتی کے لیے قطر بھیجا جائے گا۔

ترجمان نفیس ذکریا نے اپنے بیان میں زور دیا کہ ’یہ خبریں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت پاکستان اور خلیج میں واقع بردار مسلم ممالک کے درمیان درارڑ ڈالنے کے مقصد کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔‘

چھ ممالک کا قطر سے سفارتی تعلق ختم کرنے کا اعلان

قطر سے قطع تعلق کے نتیجے میں کیا کچھ داؤ پر ہے؟

قطر کے ساتھ کشیدگی کی چار وجوہات

واضح رہے کہ چند روز قبل سعودی عرب اور مصر سمیت چھ عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات مقطع کرنے والے چھ عرب ممالک میں سعودی عرب، مصر، متحدہ عرب امارات، بحرین، لیبیا اور یمن شامل ہیں۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ قطر اخوان المسلمون کے علاوہ دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی حمایت کرتا ہے جبکہ قطر نے اس اقدام کو بلاجواز اور بلاوجہ قرار دیا ۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی قطر کے معاملے پر گفتگو ہوئی تھی جہاں ایک متفقہ قرار داد میں اسلامی ممالک کو صبر سے کام لینے اور باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس مختصر قرارداد میں نے حکومت کو اسلامی ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کو کہا گیا۔

اس قرار داد کو جسے وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد نے ایوان میں پیش کیا اس میں دس اپریل سنہ 2015 کی ایک متقفہ قرار داد کا ذکر بھی کیا گیا جس میں حکومت کو عرب اور خلیجی ملکوں کے درمیان تنازعات میں مکمل طور پر غیر جانبدارانہ موقف اختیار کرنے کی بات کی گئی تھی۔

اس قرار داد پر بحث کے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے پاکستان کو غیر جانبدار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔

یاد رہے کہ ترکی نے مشرق وسطی میں اس ابھرتے ہوئے بحران میں قطر کے ساتھ اپنی حمایت کا فیصلہ کرتے ہوئے وہاں اپنی فوج کے دستے بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں