پاکستان کا لائن آف کنٹرول پر تین شہریوں کی ہلاکت پر انڈیا سے احتجاج

کشمیر انڈین فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر اپنے تین شہریوں کی ہلاکت پر انڈیا سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق انڈین افواج کی جانب سے فائرنگ کے یہ واقعات 10 اور 12 جون کو چری کوٹ اور تتا پانی سیکٹرز میں پیش آئے ہیں۔

٭ ’وزیراعظم نواز شریف کی انڈین ہم منصب سے غیر رسمی ملاقات‘

٭ ’انڈیا پاکستان میں جارحانہ کارروائی کر سکتا ہے‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان واقعات میں تین افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 70 سالہ شبیر خان کا تعلق چری کوٹ سے تھا جبکہ 18 سالہ وقار یونس اور 19 سالہ اسد علی تتا پانی سیکٹر کے گاوں بھابڑا سے تعلق رکھتے تھے۔

دفترِ خارجہ کے مطابق فائرنگ سے ایک 14 سالہ بچی سمیت تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اس معاملے پر پیر کو انڈیا کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا جہاں جنوبی ایشیا اور سارک کے معاملات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد فیصل نے ہلاکتوں پر احتجاج کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول پر فائربندی کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت اور انسانی اقدار اور حقوقِ انسانی کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ڈاکٹر فیصل نے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ پر زور دیا کہ ان کے ملک کو 2003 کے فائر بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنی چاہیے اور فائرنگ کے تازہ واقعے سمیت دیگر ایسے واقعات کی تحقیقات کرنی چاہیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انڈین حکومت کو اپنی فوج کو ہدایات دینی چاہییں کہ وہ فائربندی کے معاہدے کا اس کی اصل روح کے مطابق احترام کریں اور لائن آف کنٹرول پر امن قائم رکھیں۔

لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کا واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب گذشتہ ہفتے ہی انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق قازقستان کے دارالحکومت استانہ میں وزیراعظم نواز شریف کی اپنے انڈین ہم منصب نریندر مودی سے غیر رسمی ملاقات ہوئی۔

ابھی تک دونوں ممالک کی جانب سے سرکاری طور پر اس ملاقات کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

دونوں رہنما شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے استانہ میں موجود تھے۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے اوڑی میں فوج کے کیمپ پر حملے کے بعد سے تعلقات زیادہ کشیدہ ہو گئے تھے۔

اس حملے کے بعد انڈین فوج نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرجیکل سٹرائک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جسے پاکستان نے مسترد کر دیا تھا۔

حالیہ دنوں میں انڈیا اور پاکستانی فوج نے متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر ایک دوسرے کی ایک ایک چوکی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور دونوں جانب سے ثبوت کے طور پر ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک وجہ مبینہ انڈیا جاسوس کلبھوشن جادھو کو اپریل میں آرمی ایکٹ کے تحت سنائی گئی سزائے موت کا معاملہ بھی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں