نہال ہاشمی کو مسلم لیگ ن سے نکال دیا گیا

نہال ہاشمی تصویر کے کاپی رائٹ TV GRAB

پاکستان میں حکمران جماعت مسلم لیگ نواز نے اپنی انضباطی کمیٹی کی سفارش پر متنازع تقریر کرنے والے سینیٹر نہال ہاشمی کو جماعت سے نکال دیا ہے۔

انضباطی کمیٹی کے سربراہ اور سینیٹ میں قائدِ ایوان راجہ ظفر الحق نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ نہال ہاشمی کی رکنیت ختم کر دی گئی ہے۔

دھمکیاں دی جا رہی ہیں لیکن ڈرنے والے نہیں:سپریم کورٹ

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ نہال ہاشمی سے ان کی تقریر کے معاملے پر وضاحت طلب کی گئی تھی تاہم وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

گذشتہ ماہ نہال ہاشمی کی تقریر کے ایک حصے پر مشتمل ویڈیو منظر عام پر آئی تھی، جس میں انھوں نے پاناما کیس کی تحقیقاتی کمیٹی کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا تھا۔

مذکورہ ویڈیو میں نہال ہاشمی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ حساب لینے والے آج حاضر سروس ہیں، کل ریٹائر ہوجائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنا دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ 'اور سن لو جو حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ تو نواز شریف کا بیٹا ہے، ہم نواز شریف کے کارکن ہیں، حساب لینے والوں! ہم تمھارا یوم حساب بنا دیں گے۔'

ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ نواز کی جانب سے اسے نہال ہاشمی کی ذاتی رائے قرار دیا گیا تھا اور وزیر اعظم نواز شریف نے نہال ہاشمی سے سینیٹرشپ سے مستعفی ہونے کو کہا تھا اور ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی تھی۔

ابتدائی طور پر نہال ہاشمی نے اپنا استعفیٰ سینیٹ میں جمع کروا دیا تھا تاہم پھر 31 مئی کو انھوں نے چیئرمین رضا ربانی سے استعفے کی واپسی کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی۔

نہال ہاشمی کا موقف تھا کہ یہ استعفیٰ انھوں نے غیر معمولی حالات میں دیا تھا

نہال ہاشمی کے جماعت سے اخراج کے بعد اب مسلم لیگ نواز کے سربراہ الیکشن کمیشن سے انھیں سینیٹر شپ سے ہٹانے کے لیے بھی درخواست دیں گے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی نہال ہاشمی کی اس دھمکی آمیز تقریر پر چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کی سماعت کے بعد انھیں توہینِ عدالت کے معاملے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہے۔

اس نوٹس پر نہال ہاشمی کو جواب داخل کرنے کے لیے 16 جون تک کی مہلت دی گئی ہے۔

اسی بارے میں