پی ٹی آئی نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے: الیکشن کمیشن

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق جان بوجھ کر حقائق چھپائے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن دس برس پرانے ریکارڈ کی چھان بین کا اختیار نہیں رکھتا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان کی نااہلی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ممنوع ذرائع سے غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

'کمیشن کو نااہلی کیس کی سماعت کا اختیار نہیں'

الیکشن کمیشن کا نااہلی کے ریفرنس میں عمران خان کو پیش ہونے کا حکم

یہ درخواستیں حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی نے دائر کی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے وکیل انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے اپنے سالانہ اثاثے ظاہر کیے لیکن اس وقت کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

انور منصور نے کہا کہ الیکشن کمیشن تفصیلات جمع کرواتے وقت جانچ پڑتال کرسکتا ہے لیکن اسے 10 برس پرانے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کے گوشوارے منظور کیے جس پر بینچ کے سربراہ نے کہا 'آپ کہنا چاہتے ہیں آڈٹ رپورٹ منظور ہوگئی تو دوبارہ جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔'

بینچ کے سربراہ نے انور منصور سے استفسار کیا کیا الیکشن کمیشن پڑتال خود کرسکتا ہے یا کسی کی شکایت پر جس پر ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن مالی سال کے دوران معاملے کا جائزہ لے سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تین سال تک اکاؤنٹس کی تفصیلات کا جائزہ لینا مناسب وقت ہے لیکن 10 سال پرانے ریکارڈ کی جانچ پڑتال نہیں کی جاسکتی اور الیکشن کمیشن اس ضمن میں از خود نوٹس لینے کا اختیار نہیں رکھتا ہے۔

انور منصور کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے کیلیفورنیا سے 195 ملٹی نیشنل کارپوریشنز سے فنڈز لیے جس کی تمام تفصیلات ان کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ فنڈنگ کے ذرائع ظاہر کرنا سیاسی جاعتوں پر لازم ہے۔

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی غیر ملکی فنڈنگ ظاہر نہیں کی جس کی وجہ سے جانچ پڑتال کا عمل نہیں ہوسکا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی پارٹی ممنوعہ فنڈز کے بارے میں تو نہیں بتائے گی اس کے لیے چھان بین کرنی ہوتی ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ان کے ادارے نے دیگر سیاسی جماعتوں سے ممنوعہ ذرائع سے غیر ملکی فنڈنگ حاصل ہونے کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی ہیں جس پر ابراہیم ستی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن میں یہ معاملہ اکبر ایس بابر لیکر آئے تھے جو پی ٹی آئی کے بانی رہنماؤں میں سے ہیں۔

انھوں نے کہا 'اکبر ایس بابر گھر کے بھیدی تھے جنھوں نے لنکا ڈھائی ہے۔'

ابراہیم ستی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کسی بھی جماعت کے پرانے اکاؤنٹس کا جائرہ لینے کا اختیار حاصل ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کی سماعت میں الیکشن کمیشن کو بھی نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی یو ایس اے نے انڈیا سمیت غیر ملکیوں سے فنڈز لیے لیکن فنڈز دینے والوں کا کہیں نام تو کہیں ایڈریس بھی نہیں ہے۔

انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ فنڈز کی نوعیت کا جائزہ لیں کہ کتنے انڈینز نے اس جماعت کی فنڈنگ کی ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ممنوع ذرائع سے کئی ملین ڈالر ملے ہیں جس پر بینچ کے سربراہ نے کہا 'کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیے جانے والے فنڈز غیر قانونی ہیں۔'

عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل کو ان کی جماعت کو ملنے والے غیر ملکی فنڈز کی تفصیلات بدھ تک پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں