کون سے وزرائے اعظم پیش ہوئے؟

کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی جوائنٹ انوسیٹیگیشن ٹیم کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ وزیر اعظم کو عدالت یا کسی تحقیقاتی ٹیم نے تحقیقات یا کسی مقدمے کی سماعت کے دوران طلب کیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک کی تاریخ

عدالت کا ’ہومیوپیتھک فیصلہ‘

اپنے پہلے دور حکومت میں بھی نواز شریف عدالت سے رجوع کر چکے ہیں تاہم اس بار وہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو رہے ہیں جو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آج سے پہلے کون کون سے وزیراعظم عدالت میں پیش ہوئے، ان پر ایک نظر:

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ذوالفقار علی بھٹو، پیپلز پارٹی (14 اگست 1973 تا پانچ جولائی 1977)

پانچ جولائی 1977 کو ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے الٹ دیا تھا اور ملک میں مارشل لا کا نفاذ کرتے ہوئے 11 سال تک برسرِ اقتدار رہے تھے۔

ستمبر 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا۔ 18 مارچ 1978 کو لاہور ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ چھ فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی جس کے بعد چار اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نواز شریف، اسلامی جمہوری اتحاد، (چھ نومبر 1990 تا 18 جولائی 1993)

اکتوبر 1990 کے انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کی کامیابی کے بعد محمد نواز شریف ملک کے 12 ویں وزیراعظم کے طور پر پہلی بار اقتدار میں آئے۔ تین برس بعد ہی صدر غلام اسحاق خان نے آرٹیکل 58-2بی کا نفاذ کرتے ہوئے اپریل 1993 میں ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بطور وزیراعظم بحال کر دیا تھا۔

بلخ شیر مزاری 18 اپریل سے مئی 1993 تک ملک کے وزیراعظم رہے تاہم سپریم کورٹ نے صدارتی حکم نامہ معطل کرتے ہوئے نواز شریف کو بحال کر دیا تھا۔

نواز شریف اس سیاسی بحران سے بچ نکلنے میں کامیاب رہے تاہم محض دو ماہ بعد 18 جولائی 1993 کو صدر کے استعفے کے ساتھ انھیں بھی مستعفی ہونا پڑا تھا۔

یہی نہیں سنہ 1997 میں اپنے دوسرے دورِ حکومت کے دوران نواز شریف کو توہین عدالت کے مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یوسف رضا گیلانی، پاکستان پیپلز پارٹی، (28 مارچ 2008 تا 19 جون 2012)

فروری 2008 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر برسراقتدار آئی اور بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سید یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمیٰ کا قلمدان سونپا گیا تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے انھیں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سوئس حکام کو عدالتی حکم کے مطابق خط نہ لکھنے پر اپریل 2012 میں توہین عدالت کے جرم میں سزا سنائی جس کے بعد اُنھیں قومی اسمبلی کی نشست سے ہاتھ دھونا پڑے۔

یوسف رضا گیلانی ملک کے پہلے وزیراعظم تھے جنھیں عدالت میں پیشی پر توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا سنائی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راجہ پرویز اشرف، پاکستان پیپلز پارٹی (22 جون 2012 تا 25 مارچ 2013)

پیپلز پارٹی نے سید یوسف رضا گیلانی کے بعد راجہ پرویز اشرف کو وزارت عظمیٰ کو قلمدان سونپا۔ راجہ پرویز اشرف بھی اسی معاملے میں عدالت عظمی میں پیش ہوئے تاہم ان کی جان اس وقت چھوٹی جب انھوں نے عدالت کو یقین دھانی کروائی کہ عداکتی احکامات کی روشنی میں سوئس حکام کو خط لکھا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے بارے میں از خود نوٹس لیا اور جنوری 2013 میں کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں راجہ پرویز اشرف سمیت 16 افراد کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

اس سے پہلے سنہ 2012 میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے

بعد قومی مفاہمتی آرڈیننس یعنی این آر او عمل درآمد کیس میں بھی راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا تھا اور وہ عدالت میں پیش بھی ہوئے تھِے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں