'مائی لارڈز جے آئی ٹی کو دھمکایا جا رہا ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی عدالت عظمیٰ کا کورٹ روم نمبر تین وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے تحفظات سننے سے پہلے ہی لوگوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔

کمرہ عدالت میں جو لوگ موجود تھے اُن میں وکلا، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدان، پولیس اور سکیورٹی کے اہلکاروں کے علاوہ میڈیا کے نمائندوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی موجود تھی۔

سماعت شروع ہوئی تو وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کے وکیل نے ایک مرتبہ پھر تفتیش کے دوران اپنے موکل کی تصویر پرنٹ اور سوشل میڈیا پر جاری ہونے کا معاملہ اُٹھا دیا۔

ڈیڑھ گھنٹے سے زائد وقت تک خواجہ حارث دلائل دیتے رہے۔ جونہی اُنھوں نے اپنے دلائل مکمل کیے اور عدالت نے اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تو عدالت نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو روسٹم پر آنے کو کہا اور اُن سے استفسار کیا کہ کیا اُنھوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے تفتیش کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو دیکھا ہے، جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ آج ہی بیرون ملک سے واپس لوٹے ہیں اس لیے اُنھیں وقت نہیں ملا۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے اشتر اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی کی طرف سے بڑے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں 'اس لیے مسٹر اٹارنی جنرل پہلے ان کو چبائیں اور پھر ہضم کریں'، جس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہ بلند ہوا۔

سماعت کے آخر میں جب بینچ اُٹھنے لگا تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے ایک متفرق درخواست دائر کی گئی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ پاناما کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو ثبوت فراہم کرنے میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

عدالت نے جب اس معاملے کا کوئی نوٹس نہ لیا تو پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان اور وکیل فواد چوہدری نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ'مائی لارڈز حکومتی وزرا اور حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد عدالت اور جے آئی ٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں‘۔

عدالت نے جب اس پر بھی کوئی توجہ نہ دی تو پی ٹی آئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’مائی لارڈز عدالت عظمی کے اس بینچ اور جے آئی ٹی کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے‘ جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا 'ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اُنھوں نے بعض سیاستدانوں کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ عدالت کا فیصلہ پڑھے بغیر ایک دو ججز کے ریمارکس کو بنیاد بنا کر تبصرے کرتے ہیں جو کہ قابل افسوس ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جو کوئی مرضی کہتا رہے لیکن وہ قانون اور آئین کے مطابق ہی کام کریں گے۔

اُنھوں نے یہ شعر بھی پڑھا کہ

’کیا پوچھتے ہو مجھ سے میرے کاروبار کا

اندھوں کے شہر میں آئینے بیچتا ہوں میں‘

بدھ کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی نااہلی کی درخواست بھی زیر سماعت تھی۔

پی ٹی آئی کے رہنما جب اس درخواست کی سماعت دیکھنے کے لیے کمرہ نمبر ایک میں داخل ہوتے تو وہ بظاہر کافی دباؤ میں نظر آتے جبکہ حکمراں جماعت کے رہنما جب پاناما لیکس کے کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر تین میں جاتے تو ان کی باڈی لینگوئج ان سے مختلف نہیں تھی۔

اسی بارے میں