پشاور: ایک صدی پرانے ترناب فارم پر ایکسپو سینٹر کی تعمیر

ترناب فارم
Image caption 25 ایکڑ زمین پر نایاب پودے تلف کرکے چٹیل میدان بنا دیا گیا ہے جبکہ مزید 25 ایکڑ زمین بھی ایکسپو سینٹر کو دینے کا منصوبہ ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں زرعی تحقیق کے لیے مختص ترناب فارم کی زمین پر ایکسپو سینٹر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔صوبائی حکومت نے اس کے لیے 25 ایکڑ زمین مختص کی ہے جہاں سے 30 ہزار قیمتی پودے تلف کر کے ٹریکٹر چلا دیے گئے ہیں۔

اس منصوبے کے لیے زمین پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت فراہم کر رہی ہے جبکہ اس کی تعمیر پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی حکومت کرے گی۔ دونوں سیاسی جماعتوں میں اس پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔

کیا کوہاٹ کے امرود خطرے میں ہیں؟

قدرتی آفات سے شہد کی پیداوار متاثر

پشاور شہر سے 20 کلومیٹر دور جی ٹی روڈ پر گھنے درخت، پھل دار پودے اور سبزیوں کے کھیت اس ترناب فارم کا حصہ ہیں۔ یہ قیمتی زمین حکمرانوں کی نظر میں تھی اب یہاں ہریالی ختم کر کے ایکسپو سینٹر کی عمارت تعمیر کی جائے گی۔ اس منصوبے میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز متحد ہیں جبکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی خاموش ہیں۔

ابتدائی طور پر 25 ایکڑ زمین پر نایاب پودے تلف کرکے چٹیل میدان بنا دیا گیا ہے جبکہ مزید 25 ایکڑ زمین بھی ایکسپو سینٹر کو دینے کا منصوبہ ہے۔

Image caption ترناب فارم خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پاکستان میں زراعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے: طالب علم

ترناب فارم 108 سال پہلے برطانوی دور میں قائم کیا گیا تھا اور اس میں سبزیوں پھلوں اور دیگر اجناس کے بیج کی تیاری، نرسریاں قائم کرنا اور نئی اقسام تیار کرنے کے علاوہ مختلف بیماریوں پر تحقیق کی جاتی ہے۔ ترناب فارم کی کل زمین دو سو ایکڑ ہے۔

ترناب فارم کے دورے کے دوران زرعی یونیورسٹی پشاور کے ایم ایس سی آنرز کے طالب علموں سے ملاقات ہوئی جو 'پولینیشن' کے موضوع پر ٹماٹروں کی پیدوار پر تحقیق کر رہے تھے ۔

ایک طالب علم عاقب شکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ترناب فارم خیبر پختونخوا ہی نہیں بلکہ پاکستان میں زراعت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ وہ تحقیق کے لیے جا سکیں اس لیے بیشترطالب علم ریسرچ سینٹر آتے ہیں جہاں انھیں تمام سہولیات دستیاب ہوتی ہیں اور اسی ریسرچ کے نتیجے میں مختلف اجناس کی پیداوار میں اضافہ کیا جاتا ہے اعلیٰ نسل کے پھلوں کی نئی اقسام دریافت کی جاتی ہیں۔

ترناب فارم سے نہ صرف طالب علم بلکہ زمیندار اور کسان بھی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

ترناب فارم کے قریب مقیم لوگوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ اچانک ہی ہوا ہے اور ایک دن یہاں زمین پر ٹریکٹر چلائے گئے 30 ہزار سے زیادہ قیمتی پودے تلف کر دیے گئے۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں حکومت کے اس منصوبے کی مخالف ہیں۔

Image caption حکومت کے اس فیصلے سے صرف ترناب فارم ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ اس سے جڑی ٹی ٹی روڈ پر ایک سو کے لگ بھگ نرسریاں بھی تباہ ہو جائیں گی

ایک غیر سرکاری تنظیم سرحد کنزرویشن نیٹ ورک کے بانی عہدیدار عادل ظریف نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیصلے سے زراعت اور باغبانی کو بہت نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کو یہ جاننا چاہیے کہ ایکسپو سینٹر ہماری خوراک نہیں ہے کہ ہم کھائیں گے اگر اسی طرح اتنی قیمتی زمینوں پر عمارتیں تعمیر کی جائیں گی تو ہم کھائیں گے کیا یہ تو ہم اجتماعی خودکشی کرنے جا رہے ہیں۔

عادل ظریف نے اعلیٰ حکام کو خطوط بھی لکھے ہیں جن میں انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد فوری طور پر روکا جائے۔

حکومت کے اس فیصلے سے صرف ترناب فارم ہی متاثر نہیں ہوگا بلکہ اس سے جڑی ٹی ٹی روڈ پر ایک سو کے لگ بھگ نرسریاں بھی تباہ ہو جائیں گی جن میں لاکھوں قیمتی پودے رکھے گئے ہیں۔ ان نرسریوں کے مالکان کو بھی نوٹسز جای کیے جا چکے ہیں۔

Image caption ہر نرسری میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کے پودے رکھے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک لوگ لے جاتے ہیں

ایک نرسری کے مالک امین جان نے بتایا کہ ہر ایک نرسری میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کے پودے رکھے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک لوگ لے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ترناب فارم کا آڑو، ناشپاتی، ترناب گلابی انار،اور انگور کی اہم قسمیں تیار کی ہیں جو محتلف ممالک کو بھیجے جاتے ہیں۔

موجودہ حکومت نے اس سے پہلے پشاور یونیورسٹی کے بوٹینیکل گارڈن پر بھی تعمیرات کا منصوبہ بنایا ہے۔ اعلیٰ تحقیق اور تعلیم کے لیے مختص زمینوں پر اگر اسی رفتار سے ٹریکٹر چلائے گئے تو آئندہ کچھ عرصے میں اہم ذائقہ دار پھل شاید نایاب ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں