'یار وزیر اعظم نے کدوں واپس جانا اے'

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم مقامی وقت کے مطابق گیارہ بج کر دس منٹ پر جوڈیشل اکیڈمی پہنچے جبکہ ڈھائی بجے کے قریب اس عمارت سے باہر نکلے

پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سامنے میاں نواز شریف پروٹوکول کے بغیر پیش ہوئے یعنی ان کے ہمراہ سرکاری گاڑیوں کا جو کارواں عموماً چلتا ہے وہ آج موجود نہیں تھا۔

تاہم بلیو بک کے مطابق اُن کو سکیورٹی فراہم کی گئی جو کہ کسی بھی سربراہ مملکت کے لیے ہوتی ہے۔ اس بلیو بک کے مطابق وزیر اعظم کے لیے دو روٹ لگائے گئے تھے اور یہ روٹ اس وقت تک لگے رہے جب وزیر اعظم اپنی منزل پر نہیں پہنچ گئے۔

اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے: نواز شریف

’میاں صاحب اب آرام سے کرکٹ میچ دیکھ سکتے ہیں‘

بغیر جھنڈے کی گاڑی میں وزیراعظم فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں پہنچے جہاں پاناما لیکس سے متعلق مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے چھ ارکان جن میں فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے بریگیڈئیر رینک کے افسران بھی شامل تھے، ان کا انتظار کر رہے تھے۔

وزیر اعظم کی گاڑی میں اُن کے چھوٹے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے علاوہ حسین نواز بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم جب جوڈیشل اکیڈمی پہنچے تو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو اُن کے سٹاف نے بتایا کہ وزیر اعظم صاحب آگئے ہیں جس پر کہا گیا کہ صرف وزیر اعظم کو اندر آنے دیں جبکہ اُن کے پرنسپل سیکریٹری اور ملٹری سیکریٹری سمیت دیگر افراد جن میں اُن کے صاحبزادے حسین نواز بھی شامل ہیں 'ویٹنگ روم' میں بٹھائیں۔

وزیراعظم مقامی وقت کے مطابق گیارہ بج کر دس منٹ پر جوڈیشل اکیڈمی پہنچے جبکہ ڈھائی بجے کے قریب اس عمارت سے باہر نکلے۔

تین گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد وزیر اعظم جب باہر نکلے تو باڈی لینگوئج سے کافی مطمئن دکھائی دے رہے تھے جبکہ اُن کے ساتھ اُن کے بیٹے حسین نواز اور بھتیجے حمزہ شہباز بھی مطمئن دکھائی دیے۔

وزیراعظم نے میڈیا کو لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر سنائی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تقریر وہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے سے پہلے ہی وزیر اعظم ہاؤس سے لکھ کر لائے تھے۔

وہ کئی گھنٹے سے دھوپ میں کھڑے میڈیا کے اراکین سے،خطاب کرنے کے بعد سوالوں کا جواب دیے بغیر اسی راستے سے وزیر اعظم ہاؤس چلے گئے جہاں سے وہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے آئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف کئی گھنٹے سے دھوپ میں کھڑے میڈیا کے اراکین سے،خطاب کرنے کے بعد سوالوں کا جواب دیے بغیر چلے گئے

میڈیا کے نمائندے علی الصبح ہی فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر پہنچ گئے تھے جبکہ وفاقی وزرا جن میں اسحاق ڈار اور عابد شیر علی کے علاوہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے اولے ارکان پارلیمنٹ اور مسلم لیگ نواز کے کارکنان بھی وہاں ایک قابل ذکر تعداد میں وہاں موجود تھے لیکن انھیں پولیس نے دور ہی روک لیا اور جوڈیشل اکیڈمی تک جانے کی اجازت نہیں دی۔

ڈھائی ہزار کے قریب پولیس اور رینجزز اہلکاروں کو وزیر اعظم کی آمد سے آٹھ گھنٹے پہلے ہی جوڈیشل اکیڈمی کے اطراف میں تعینات کیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں میں زیادہ تر لوگ روزے سے تھے اور دھوپ میں کھڑے ہوکر اُن کی حالت غیر ہو رہی تھی۔

متعدد پولیس اہلکار جب چھاؤں کی تلاش میں نکلتے تو پیچھے سے اُن کے افسران آواز لگاتے کہ 'اوئے کدھر جارہے ہو واپس آؤ'۔ ایسے حالات کو دیکھ کر پولیس اہلکار آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ 'یار وزیر اعظم نے کدوں واپس جانا اے'۔

نماز ظہر کا وقت ہوا تو عابد شیر علی نے کہا کہ جاؤ کوئی مولوی ڈھونڈ کر لاؤ جب تلاش کرنے سے بھی کوئی مولوی نہ ملا تو پھر عابد شیر علی نے خود ہی امامت کی ذمہ داری سنبھال لی۔

وزیر اعظم کی آمد کے وقت اس علاقے میں نجی ہسپتال کی طرف جانے والی ایک سڑک کو بند کر دیا گیا تھا اور صرف ایمبولینسوں کو ہی وہاں سے گزرنے کی اجازت تھی جبکہ تیمارداری کرنے کے لیے آنے والے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں