کراچی میں شیر کو سیر کرانے پر بزنس مین کی گرفتاری اور رہائی

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube

کراچی کی ایک عدالت نے سڑک پر شیر کے ساتھ تفریح کرنے والے ایک شہری کو گرفتار کرنے کے بعد 20 ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا۔

ثقلین جاوید کو شیر لے کر گھومنے اور عوام کی جان خطرے میں ڈالنے کے الزام میں بدھ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تاہم ثقلین نے پولیس کو اجازت نامہ بھی پیش کیا تھا جس کے مطابق انھوں نے یہ شیر اپنے نجی چڑیا گھر کے لیے پالا تھا۔

کراچی کے علاقے کریم آباد میں شہریوں نے ایک ویڈیو بناکر سوشل میڈیا پر شیئر کی جس میں ڈبل کیبن گاڑی میں ایک شخص کو شیر کے ساتھ سڑک پر جاتے ہوئے دیکھایا گیا تھا۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے پر صوبائی وزیر داخلہ سہیل سیال نے نوٹس لیا اور پولیس کو ثقلین کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔

عزیز آباد پولیس نے ثقلین جاوید کو گرفتار کیا اور سرکار کی مدعیت میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ پولیس نے ثقلین کو گرفتار کرکے شیر بھی اپنی حراست میں لے لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس معمول کے گشت پر تھی کہ ایک واٹس ایپ پیغام آیا ایک شخص زندہ شیر کو گاڑی میں لے کر عثمان میموریل چورنگی سے کریم آباد کی طرف بھرے بازار میں شارع عام سے گزر رہا ہے۔

یاد رہے کہ کراچی میں عام شہریوں نے نجی چڑیا گھر بنائے ہوئے ہیں جن میں شیر، چیتے اور بندر کے علاوہ دیگر جنگلی جانور رکھے گئے ہیں۔ ثقلین جاوید کے پاس بھی چھوٹے چڑیا گھر کی اجازت ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ثقلین نے دعویٰ کیا کہ وہ شیر کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے۔

ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے محکمہ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر سعید بلوچ نے کہا کہ نجی چڑیا گھر کے جانور کو سڑک پر لے جانا اجازت نامے کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا محکمہ اس بات کی یقیناً تحقیقات کرے گا کہ مالک کے پاس تمام مطلوبہ دستاویزات موجود ہیں یا نہیں۔

اسی بارے میں