ٹیکس اور قرضوں میں جکڑے پاکستانی کسان

کسان، پاکستان

محمد یعقوب نے پہلی بار اپنی اہلیہ کے زیورات گروی رکھوا کر بینک سے 40 ہزار قرض حاصل کیا، جو وہ واپس نہیں کر پائے کیونکہ ان پیسوں سے جو فصل بوئی تھی اس کی فروخت میں انھیں نقصان اٹھانا پڑا۔

سود جمع ہوتے ہوئے قابلِ واپسی رقم ایک لاکھ 70 ہزار ہو گئی۔ اگلے برس پھر اپنی بھابی کا زیور گروی رکھا اور اس کے عوض حاصل ہونے والی قرضے کی قابلِ واپسی رقم اب دو لاکھ ہے اور اب ان کی دوسری بھابی کے زیورات بھی گروی ہیں۔

بینک کے علاوہ آڑھتی کو بھی انھیں 11 لاکھ روپے قرض واپس کرنا ہے جس سے وہ قرض پر کھاد اور بیج وغیرہ خریدتے ہیں۔ یہ آڑھتی بھی سود سمیت رقم واپس لیتا ہے۔

یوں اس وقت وہ 19 لاکھ روپے کے مقروض ہیں اور اس رقم کی وصولی کے لیے لوگ انھیں تنگ کر رہے ہیں۔

'ہم نے انھیں بینک کے چیک دیے ہوتے ہیں وہ جب واپس ہو جائیں تو لوگ دھمکیاں دیتے ہیں کہ تمھیں پولیس سے پکڑوا دیں گے۔ پھر ادھر اُدھر سے پکڑ کر ان کو دینا پڑتا ہے۔'

محمد یعقوب کوئی عادی قرض لینے والے نہیں۔ وہ صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک چھوٹے کسان ہیں جن کے لیے بینک سے قرض لینے کا سوچنا بھی ایک زمانے میں گناہ کے مترادف تھا۔ مگر اب وہ زمانہ نہیں رہا۔

Image caption محمد یعقوب ضلع اوکاڑہ کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک چھوٹے کسان ہیں جن کے لیے بینک سے قرض لینے کا سوچنا بھی ایک زمانے میں گناہ کے مترادف تھا لیکن اب وہ زمانہ نہیں رہا۔

ان کے خاندان کی کل اراضی 18 ایکڑ ہے اور وہ چار بھائی ہیں۔ آج سے تقریباً دس سال قبل وہ کوسٹ گارڈ کی سرکاری نوکری سے ریٹائر ہوئے اور باقاعدہ طور پر اپنے آبائی پیشے کاشت کاری کا آغاز کیا۔ اپنی زمین کے علاوہ انھوں نے 75 ایکڑ زمین ٹھیکے پر حاصل کی جہاں وہ مکئی اور آلو وغیرہ کاشت کرتے ہیں۔

اوکاڑہ ان دو فصلوں کےلیے خصوصاً مشہور ہے۔ ان کے لیے آغاز بہت اچھا رہا مگر ان کہ کہنا ہے کہ گذشتہ تین سالوں سے وہ مسلسل نقصان اٹھا رہے ہیں یہاں تک کہ اب بھاری قرضے میں جکڑے ہیں۔

قرضہ جلد چکائے جانے کی انہیں کوئی امید نظر نہیں آتی، کیونکہ جن عوامل کی وجہ سے وہ ان حالات تک پہنچے ہیں ان کے مستقبل قریب میں تبدیل ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جب بھی فصل بیچنے کا وقت آتا ہے تو کھاد کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔

'جب ہماری فصل تیار ہو جائے تو اس کی قیمت گِر جاتی ہے۔ ہمارے پیسے بہت زیادہ خرچ ہوتے ہیں جبکہ ہمیں واپس بہت کم ملتے ہیں۔'

آلو کی کاشت پر فی ایکڑ ان کا کل خرچ تقریباً 80 ہزار ہے جبکہ فصل 60 سے 70 ہزار تک بکتی ہے۔ وہ اپنی فصلوں کو مختلف کھادیں یعنی ڈی اے پی، یوریا، زنک اور پوٹاش دینے کے علاوہ ان پر سپرے بھی کرتے ہیں۔

ٹیوب ویل سے فصلوں کو پانی دینا پڑتا ہے کیونکہ نہری پانی صرف انہیں محض 18 منٹ فی ایکڑ کے حساب سے ملتا ہے۔

ان پیسوں میں انہیں سال بھر کے لیے اپنے گھر کا خرچ بھی چلانا ہوتا ہے، ٹیوب ویل استعمال کرنے پر بجلی کا بل بھی ادا کرنا ہوتا ہے، نئی فصل کے لیے بیج، کھادیں اور کیڑے مار ادویات خریدنی ہوتی ہیں اور اس سب سے پہلے انہیں زمین کے مالک کو اس کے حصے کے ٹھیکے کے پیسے ادا کرنے ہوتے ہیں۔

ان تمام اخراجات کے لیے ان کے پاس واحد ذریعہ اپنی فصلوں سے آنے والی آمدن ہے جو گذشتہ کم از کم تین سالوں سے مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ جب فصل سے آمدن نہ ہوئی تو مجبوراً محمد یعقوب کو قرض لینا پڑا جسے واپںں کرنا ان کی بساط سے باہر ہے۔

'اب جب کچھ نہیں ہو گا تو ہم مویشی بیچیں گے یا زمین بیچیں گے۔ قرض تو واپس کرنا پڑے گا۔'

یہ کہانی صرف محمد یعقوب کی نہیں۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں زیادہ تر چھوٹے کسان ایسی ہی روداد سناتے ہیں۔

منظور الٰہی بھی اوکاڑہ کے اسی گاؤں میں 50 ایکڑ زمین ٹھیکے پر کاشت کرتے ہیں۔ انھیں بھی امید ہے کہ جب حکومت کسان کی مدد کرے گی اور فصلوں کے ریٹ اچھے ہوں گے تو وہ اپنا قرض اتارنے کے قابل ہوں گے۔

تاہم میاں فاروق احمد زیادہ پرامید نہیں کہ حکومت زراعت کی بہتری کے لیے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

میاں فاروق احمد اوکاڑہ کے تسبتاً بڑے زمیندار ہیں۔ ان کی 200 ایکڑ اراضی ہے اور وہ کاشتکاری کے علاوہ پاکستان کسان اتحاد نامی ایک تنظیم کے ذریعے کسانوں کے حقوق کے حصول کے لیے کام بھی کر رہے ہیں۔

حال ہی میں قومی اسمبلی میں پیش ہونے والے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے اعلان کے روز پاکستان کسان اتحاد نے دارالحکومت اسلام آباد میں کسانوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا جس کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میاں فاروق احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کسان تنگ آمد بجنگ آمد سراپا احتجاج ہے۔

'دنیا بھر میں شاید پاکستان وہ ملک ہے جہاں زرعی مداخل پر اتنی زیادہ ٹیکسیشن کی ہوئی ہے۔ دنیا میں کہیں مداخل پر جنرل سیلز ٹیکس نہیں لگایا جاتا، یہ ٹیکس ہے ہی پیداوار پر۔'

دوسری طرف حکومت صرف گندم یا کسی حد تک گنے کی امدادی قیمت مقرر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 24 اجناس کو یہ سہولت میسر نہیں اور ان اجناس کی فروخت کے لیے کسان مڈل مین یا آڑھتی کے رحم و کرم پر ہوتا ہے جو اس کا منافع یقینی طور پر کھا جاتا ہے۔

تیسری طرف حکومت یہی اجناس انڈیا سے بھی درآمد کرتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے کاشتکار کو نقصان ہوتا ہے۔

میاں فاروق کے مطابق انڈیا میں کاشتکاروں کو پاکستان کے مقابلے میں ہزار گنا زیادہ حکومتی سبسڈی میسر ہے جس کی وجہ سے ان کے اخراجات کم ہیں۔ وہ سستا بھی بیچیں تو ان کو منافع مل جاتا ہے۔

'جب ان کا آلو پانچ سو روپے بوری ملے گا تو میرا پندرہ سو روپے بوری کون خریدے گا۔'

میاں فاروق کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی کاشتکار کو حقیقی معنوں میں سبسڈی دے اور اس کو سپورٹ کرے تو وہ نا صرف اپنا بلکہ اس ملک کا قرضہ چکانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں