تیمور رضا کی جانب سے سزائے موت کے خلاف اپیل

توہینِ مذہب کے خلاف مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان میں توہینِ مذہب انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے مبینہ طور پر مرتکب افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے عام ہیں

پاکستان میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت کے الزام میں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزائے موت پانے والے تیمور رضا کی جانب سے اس سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ میں درخواست جمع کروا دی گئی ہے۔

تیمور رضا کو یہ سزا مبینہ طور پر فیس بک پر گستاخانہ مواد شائع کرنے پر سنائی گئی تھی اور یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

30 سالہ تیمور رضا کے وکیل فدا حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے موکل نے ایسا کوئی لفظ نہیں کہا جو توہین رسالت یا کسی بھی معتبر ہستی کی شان میں گستاخی پر مبنی ہو اور ان کا جرم ثابت کرنے کی لیے نہ کوئی گواہ ہے اور نہ ہی ٹھوس ثبوت اور اسی لیے انھوں نے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کی ہے۔

تیمور لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک کمپنی میں آفس بوائے کا کام کرتے تھے۔ ان کے بھائی وسیم عباس کے مطابق چار اپریل 2016 کو جب بہت کوششوں کے باوجود ان کا اپنے بھائی سے رابطہ نہیں ہوا تو انھوں نے لاہور کے ڈیفنس اے تھانے میں تیمور کے اغوا کی ایف آئی آر درج کروائی۔

دوسری جانب کیس کی تفصیلات یہ بات ظاہر کرتی ہیں کہ تیمور رضا کو اگلے ہی روز پانچ اپریل 2016 کو محکمۂ انسدادِ دہشت گردی نے بہاولپور کے ایک بس اڈے سے گرفتار کیا اور ملتان میں ان کے خلاف دفعہ 298 اے کے تحت ایف آئی آر درج ہوئی۔

ان پر الزام تھا کہ وہ بس سٹینڈ پر پیغمبرِ اسلام، صحابہ کرام اور ازواج مطہرات کے بارے میں گستاخانہ اور فرقہ وارانہ مواد لوگوں میں بانٹ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تیمور کے وکیل فدا حسین کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں صرف 298 اے کی دفعات لگائی گئی تھیں البتہ دو ماہ بعد 295 سی کی دفعات بغیر کسی ثبوت کے شامل کر لی گئیں۔

انھوں نے عدالتِ عالیہ میں جو اپیل دائر کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے سزا سناتے ہوئے پنجاب فورینسک سائنس لیبارٹری کی رپورٹ پر انحصار کیا ہے، حالانکہ اس رپورٹ سے استغاثہ کے الزامات ثابت نہیں ہوتے۔

اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ تیمور نے کسی قسم کا قابلِ اعتراض مواد نشر نہیں کیا اور عدالت نے صرف کمزور شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے۔

ملزم تیمور رضا کے بھائی نے نامہ نگار حنا سعید سے بات کرتے ہوئے کہا: 'یہ مس کیرج آف جسٹس یعنی انصاف کا خون ہے۔ ہمارا تعلق ساہیوال کے ایک سادہ سے گھرانے سے ہے۔ تیمور انتہائی شریف آدمی ہے، وہ کبھی کوئی ایسی حرکت کر ہی نہیں سکتا۔ ہماری ہائی کورٹ سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دے۔'

پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی سزائے موت ہے جو سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی اشاعت پر سنائی گئی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کی اور اس حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ تیمور سمیت توہین رسالت کے الزام میں گرفتار تمام افراد کو فوری طور پر رہا کر دیا جائے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی پاکستان کے لیے نمائندہ نادیہ رحمان نے کہا ہے کہ 'مبینہ طور پر توہین آمیز مواد کی آن لائن پوسٹنگ کی پاداش میں موت کی سزا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے اور ایک خطرناک مثال ہے۔ حکام مبہم اور وسیع قوانین کا استعمال کرتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی کو جرم قرار دے رہے ہیں۔'

تنظیم نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ پاکستان میں ایسے قوانین لاگو کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے اور ان میں مناسب سیف گارڈز کی کمی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں