’جے آئی ٹی کو الزامات کے بارے میں ٹھوس شواہد دینا ہوں گے‘

پاکستان

وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی طرف سے تفتیش میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ میں جواب داخل کروا دیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس جواب میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کو مختلف اداروں اور شخصیات پر لگائے گئے الزامات کے بارے میں ٹھوس شواہد دینا ہوں گے کیونکہ جن اداروں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں انھوں نے اس کی تردید کی ہے۔

ریاستی ادارے ریکارڈ تبدیل کر رہے ہیں: جے آئی ٹی

'مائی لارڈز جے آئی ٹی کو دھمکایا جا رہا ہے'

چند روز قبل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی طرف سے ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ریاستی ادارے نہ صرف پاناما لیکس سے متعلق ریکارڈ فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں بلکہ اس ریکارڈ کو تبدیل بھی کیا جا رہا ہے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے جن اداروں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں اُن میں قومی احتساب بیورو، سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے علاوہ سویلین خفیہ ادارے آئی بی بھی شامل ہے۔

انٹیلی جنس بیورو پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس ادارے کے اہلکاروں نے تحقیقات کرنے والی ٹیم کے رکن بلال رسول کا فیس بک اکاونٹ ہیک کرنے کے علاوہ ان کے ملازمین کو ڈرایا دھمکایا ہے۔

ان الزامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاناما لیکس سے متعلق پیش ہونے والے افراد کو پیشی سے پہلے بریف کیا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے کونسا موقف اختیار کرنا ہے۔

واضح رہے کہ ان الزامات پر پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اٹارنی جنرل کو ٹیم کے خدشات دور کرنے اور اس ضمن میں جواب داخل کروانے کا حکم دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 19جون کو امکان ہے کہ عدالت وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے تصویر لیک ہونے کے معاملے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ بھی سنائے گی

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ جن اداروں پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے الزامات عائد کیے ہیں اُنھوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ جے آئی ٹی نے مواد اکھٹا کرنے میں کم وقت صرف کیا ہے جبکہ ٹی وی ٹاک شوز دیکھنے اور سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ میں زیادہ وقت صرف کیا ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جب تک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان ان الزامات کے بارے میں ٹھوس شواہد فراہم نہیں کرتے اس وقت تک جے آئی ٹی کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر مناسب احکامات جاری نہ کیے جائیں۔

سپریم کورٹ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے الزامات سے متعلق دائر درخواست کی سماعت 19جون کو کرے گی جبکہ امکان ہے کہ اسی روز عدالت وزیر اعظم کے صاحبزادے حسین نواز کی طرف سے تصویر لیک ہونے کے معاملے پر محفوظ کیا گیا فیصلہ بھی سنائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں