وزیرستان ایجنسی میں انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

شدت پسندی سے متاثر پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کی جا رہی ہے جو افغانستان اور وسطی ایشیا سے منسلک ہوگی اور اس کے لیے زمین حاصل کر لی گئی ہے لیکن مقامی قبائل زمین کے حصول کو متنازعہ قرار دے رہے ہیں۔

یہ صنعتی بستی یا انڈسٹریل اسٹیٹ میرعلی میرانشاہ روڈ پر کوئی پانچ ہزار کنال پر قائم کی جا رہی ہے جس کے لیے ابتدائی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

اس انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے تمام قبائلی علاقوں کے سروے کیے گئے اور پھر شمالی وزیرستان ایجنسی کو منتخب کیا گیا۔ اس منصوبے پر تین سے چار ارب روپے خرچ ہوں گے اور یہ صنعتی بستی دو ہزار انیس تک فعال ہو سکے گی۔

فاٹا سیکریٹریٹ کے ترجمان عبدالسلام وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ قبائلی علاقوں میں بڑی مقدار میں معدنیات ہیں جس سے وابسطہ صنعتیں یہاں ترجیحی بنیاد پر قائم کی جا سکیں گی۔

انھوں نے کہا کہ اس انڈسٹریل اسٹیٹ پر کام ایک دو ماہ میں شروع کر دیا جائے گا جس سے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں گے۔

عبدالسلام وزیر نے بتایا کہ یہ علاقہ پاک افغان سرحد پر غلام خان سے متصل ہے جو افغانستان اور پھر وسطی ایشیا سے ملتا ہے، اس لیے یہ صنعتی بستی قومی سطح پر نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر کام کرے گی اور مستقبل میں ہو سکتا ہے کہ اسے سی پیک کا حصہ بنا دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اس منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور ایک وفد بھی علاقے کا دورہ کر چکا ہے۔

یہ صنعتی بستی جس زمین پر تجویز کی گئی ہے اس مقامی قبیلے کے لوگ متنازعہ قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے اور ان کی غیر موجودگی میں بعض عناصر نے پولیٹکل انتظامیہ سے مل کر ان کی زمین بیچ دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس قبیلے کے ایک رکن مشیر خان وزیر نے کہا کہ یہ شاملات کی زمین تین دیہات حکیم خیل، مبارک شاہی اور پیران کلے کے لوگوں کی ہے جبکہ باہر سے آئے کچھ لوگ اس پر قابض ہوکر زمین بیچ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے زمین کچھ لوگوں کو کرائے پر دی تھی لیکن اب انھوں نے ہی اعلی حکام سے مل کر سودا کر دیا ہے۔

مشیر خان نے بتایا کہ انھوں نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دے رکھی ہے جبکہ پولیٹکل ایجنٹ کے فیصلے کے خلاف انھوں نے کمشنر پشاور ڈویژن کی عدالت میں اپیل کی ہے۔

مشیر خان نے بتایا کہ وہ اس کے خلاف ہر سطح پر جائیں گے اور اپنے حق پر کسی کو قبضہ نہیں کرنے دیں گے۔

اس بارے میں فاٹا سیکریٹیریٹ کے ترجمان عبدالسلام وزیر نے کہا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق یہ زمین متنازعہ نہیں ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے اہم رکن محسن داوڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان ایجنسی میں جتنے بھی کام ہو رہے ہیں ان میں مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا جا رہا۔

انھوں نے کہا کہ معاملہ عدالت میں ہے تو حکام کو فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا اور کسی غریب کو اس کے حق سے محروم کرنا مناسب نہیں ہے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی دیگر قبائلی علاقوں کی طرح شدت پسندی کا شکار رہا جہاں جون 2014 میں فوجی آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے لیکن اب ایسی اطلاعات ہیں کہ 90 فیصد لوگ واپس اپنے گھروں کو جا چکے ہیں۔

قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں اب فاٹا اصلاحات کے نتیجے میں اگر قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام ہو جاتا ہے تو مبصرین کے مطابق ان علاقوں میں مزید ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں