شہباز شریف نے جے آئی ٹی کے سامنے بیان جمع کروا دیا

شہباز شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور وزیراعظم کے بھائی میاں شہباز شریف آج پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیشی کے بعد شہباز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے پاناما کیس کے حوالے سے اپنی بہترین معلومات کے تحت مکمل بیان جمع کروا دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی اور وزیراعظم کی پیشی سے واضح ہوتا ہے کہ منتخب لوگوں اور بندوق کے زور پر حکومت میں چھینے والوں کے دلوں میں قانون کے احترام کا کیا فرق ہے۔ انھوں نے بظاہر سابق صدر پرویز مشرف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کمر درد کا بہانہ کر پیشی سے بھاگ نہیں گیا۔

یاد رہے کہ دو روز قبل وزیر اعظم نواز شریف بھی سپریم کورٹ کے حکم پر پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی چھ رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیشں ہوئے تھے۔

وزیر اعلیٰ کی پیشی سے قبل دارالحکومت اسلام آباد میں واقع فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کی جانب جانے والے روٹ کے لیے خصوصی سکیورٹی پلان مرتب کیا گیا ہے۔

اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے: نواز شریف

’میاں صاحب اب آرام سے کرکٹ میچ دیکھ سکتے ہیں‘

پاناما لیکس کیس: ’نواز شریف کا خاندان ثبوت فراہم کرے‘

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنے پارٹی ورکرز سے کہا تھا کہ وہ فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر جمع نہ ہوں۔

جمعرات کو تین گھنٹوں تک جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد وزیراعظم نے صحافیوں کے سامنے ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا تھا اور کہا تھا کہ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے جو وہ مستقبل قریب میں عوام سے کہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’وہ زمانہ گیا جب سب کچھ پردوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا اور اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے۔‘

وزیراعظم کے داماد اور رکنِ قومی اسمبلی کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کی پیشی 24 جون کو ہے جبکہ وزیراعظم کے دونوں صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں برس 20 اپریل کو پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں چھ رکنی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان نے کمیٹی کو 60 دن کے اندر اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا تھا۔

اس کے علاوہ ٹیم کے لیے وضع کیے گئے ضوابط کمیٹی کو ہر 15 دن کے اندر اپنی رپورٹ تین رکنی بینچ کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔

22 مئی کو وزیر اعظم اور ان کے دو بیٹوں کے خلاف پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والی ٹیم کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کو اپنا کام مکمل کرنے کے لیے 60 روز سے زیادہ کی مہلت نہیں دی جا سکتی۔

اسی بارے میں