چینی شہریوں کی ہلاکت: کورین شہری کا ویزا منسوخ

چینی باشندے تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دونوں چینی باشندوں کی ہلاکت کی ویڈیو جبھی جاری کی گئی اور انھیں 24 مئی کو کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاؤن سے اغوا کیا گیا تھا

پاکستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس نے غیر قانونی طور پر کوئٹہ میں اردو زبان کی اکیڈمی کھولنے کی وجہ سے ایک کورین شہری کا ویزا منسوخ کر دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسی سکول میں ممکنہ طور پر دو دو چینی شہری کام کر رہے تھے جنھیں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے اغوا کے بعد ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں دولتِ اسلامیہ نے اپنی ویب سائٹ کے ذریعے ایک پیغام میں کہا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے ایک چینی مرد اور خاتون کو ہلاک کر دیا ہے۔ ان دونوں کو مئی میں بظاہر سکیورٹی افسران نظر آنے والے مسلح افراد نے کوئٹہ شہر کے جنوب مغرب سے اغوا کیا تھا۔

’لاشیں ملنے تک ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتے‘

کوئٹہ سے دو چینی باشندے اغوا کر لیے گئے

وزراتِ داخلہ نے بیان میں کہا ہے کہ 'اس بات کا تعین ہوگیا ہے کہ اغوا کے واقعے کے بعد جنوبی کوریا کے شہری وان سبو الیاس گلبرٹ پاکستان میں بزنس ویزے پر تھے تاہم انھوں نے یہاں اردو کی اکیڈمی کھول رکھی تھی اور وہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔'

یاد رہے کہ دونوں چینی باشندے اغوا کے وقت ایک اور چینی خاتون کے ہمراہ خریداری کے لیے بازار میں موجود تھے۔

رواں ماہ کے آعاز میں وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ چینی جوڑا لی زنگ یانگ اور مینگ لی سی مبلغ تھے تاہم وہ یہ ظاہر کر رہے تھے کہ وہ زبان کے استاد ہیں۔ یہ کہہ کر وہ ویزا قوانین کی خلاف ورزی کر رہے تھے اور اس نے ان کے اغوا میں بھی کردار ادا کیا۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ یہ تحقیقات کرے گا کہ کیا وہ جوڑا ایک ایسے ملک میں اپنی تبلیغی سرگرمیاں کر رہا تھا جہاں 98 فیصد افراد مسلمان ہیں۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ چینی جوڑے کو نہ صرف سکیورٹی خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا بلکہ انھیں تحفظ فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی تاہم چینی جوڑے نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

پاکستان میں چینی شہریوں کا اغوا ایک غیر معمولی واقعہ ہے اور ملک میں چینی باشندوں کی بڑھتی ہوئی آبادی تعداد کے پیش نظر یہ صورتحال خطرناک ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں