میرا دوست چین!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ابھی چند گھنٹے پہلے میں پاکستان اور چین کی سرحد پر موجود تھی اور وہاں کی زمستانی ہواؤں کے باوجود فضا میں دوستی کی گرمجوشی موجود تھی۔ نہ واہگہ بارڈر کی طرح شور شرابا، نہ ہی کوئی فوج ووج، کچھ زوا، جو یاک اور گائے کے درمیان کوئی مخلوق ہیں، ضرور چرتے چگتے پھر رہے تھے۔ گویا راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا۔

زمانۂ طالب علمی میں ایک قول ہمارے سامنے بار بار دہرایا جاتا تھا 'علم حاصل کرو، خواہ اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے'

سی پیک اور مقامی آبادی کے حقوق، قانون سازی کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل

سی پیک: گیم چینجر یا ہوائی قلعہ؟

پاکستان اور چین میں اقتصادی راہداری کے معاہدے

ان ہی دنوں اللہ دین کی کہانی سنی تو معلوم ہوا کہ چین کے ایک شہر پیکنگ میں اللہ دین نامی لڑکا رہتا تھا جسے ایک خبیث جادوگر نے جادو کا چراغ حاصل کرنے کے لیے دھوکا دیا مگر آخر کار اسی جادوگر کا بیڑہ غرق ہوا، اللہ دین اس آزمائش سے سرخرو نکلا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین سے اصل تعارف کرانے والے قبل از انقلاب کے ہنر مند اور دستکار تھے

تقریری مقابلوں میں اسلامی اخوت اور بھائی چارے کا یقین دلانے کو فاضل مقررین ڈائس پیٹ پیٹ کر پڑھا کرتے تھے۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر

کاشغر اس وقت قسطنطنیہ، ثمر قند اور بخارا کی طرح بس ایک نام تھا جہاں سے ہمارے اب و جد، کف اڑاتے، گھوڑے دوڑاتے، ہندوستانیوں کی شامت بلانے کو جوق در جوق دوڑے چلے آتے تھے۔ پھر یہ شہر کہاں گئے؟ اس کے بارے میں فاضل راویانِ کرام خاموش ہو جایا کرتے تھے۔ وہ تو بھلا ہو مجاہدین کا، روس کے دماغ ٹھکانے لگائے اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا تو چند شہر برآمد ہوئے، باقی ماندہ غالباً ابھی چین اور ترکی دبائے بیٹھا ہے۔

مارکو پولو، نکولو پولو بھی چین کی ہیبت دل میں بٹھانے کو 'روڈ ٹو دا ایسٹ' لکھ گئے۔ چین سے اصل تعارف کرانے والے قبل از انقلاب کے ہنر مند اور دستکار تھے۔

امیوں اور دادیوں کے جہیز اور بریوں کے صندوق جب دھوپ لگانے کو کھولے جاتے تھے تو ان میں سے تن چوئی اور شنگھائی کا ایک ایک جوڑا ضرور برآمد ہوتا تھا۔ یہ لباس، نسل بعد از نسل، تقریبات میں پہنے جانے والے کپڑوں کا جز رہے۔ صدیوں سے شاہراہِ ریشم کے راستے یہ کپڑا اور چین کی دیگر مصنوعات انڈیا کے امراؤں کے گھروں میں آتی اور بکتی رہیں۔

ریشم کی باریک کڑھت کی ٹی کوزیاں، ٹیپیسٹریز، جن پر ریشم کے باریک تار سے، پگوڈا، بیدِ مجنوں، گلِ دواؤدی، معبد، لکڑی کے پل اور سفید گالوں والی حسین گیشاز کڑھی ہوتی تھیں، مجھے اٹھا کے قدیم چین میں لے جاتی تھیں، جہاں گئے بغیر واقعی علم مکمل نہیں ہوتا۔

لاہور میں جوتوں کی ایک دکان غالباً ' ہاپسنز' کے نام سے تھی، بیوٹی پارلرز چلانے والی بھی گول چپٹے چہروں والی چینی خواتین تھیں جو قبل از انقلاب ہی لاہور آ بسی تھیں۔

چین، ہمارے دسترخوانوں، کہانیوں کی کتابوں، کپڑوں کی الماریوں اور گلیوں بازاروں میں سالہا سال سے موجود ہے۔ دنیا کے ہر بڑے شہر میں چائنہ ٹاؤن موجود ہے لیکن، کاشغر، قسطنطنیہ، ثمر قند اور بخارا کی طرح یہ بھی ایک ایسا چین ہے جو اب کہیں نہیں سوائے یادوں اور باتوں کے۔ نیا چین ایک اور دنیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ نئے چینی بڑے سیانے ہیں اور یہ جو بہانے بہانے سے سی پیک بنا کر پاکستان میں چلے آ رہے ہیں جلد ہی ایسٹ انڈیا کمپنی بن کر ہمیں لوٹ کھائیں گے

تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ نئے چینی بڑے سیانے ہیں اور یہ جو بہانے بہانے سے سی پیک بنا کر پاکستان میں چلے آ رہے ہیں جلد ہی ایسٹ انڈیا کمپنی بن کر ہمیں لوٹ کھائیں گے۔

تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کی پیش گوئیاں پورے ہونے کے 200 فی صد چانسز موجود رہتے ہیں لیکن یہ نئے نئے اُگے دانشور کیا جانیں کہ سالہا سال پہلے ہمارے بزرگ، کاشغر اور چین کے بارے میں کیا کیا پیش گوئیاں کر گئے ہیں۔انھوں نے تو یہ ترانہ بھی نہ سنا ہو گا 'چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا، مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا'

مزید یہ کہ حال ہی میں ایک اشتہار دیکھ کر کیا آپ کا ایمان تازہ اور دل مضبوط نہیں ہوتا کہ یہ نیا چینی تو ہمیں خوش کرنے کو ہمارے ہاں کا لباس اور کھانا اپنانے پہ مجبور ہے؟

ذرا عقل لڑائیے چین کو بھلا ہماری کیا ضرورت ؟ یہ بد گمان لوگ پہلے بھی امریکہ کے بارے میں الٹی سلٹی ہانکتے رہے۔ بتائیے وہ غریب ہم سے کیا لے گیا ؟ آج تک یو ایس ایڈ کی شکل میں الٹا امداد دے رہا ہے۔ سعودی عرب اور گلف کی ریاستوں سے ہماری دوستی پر اتنا اعتراض تھا کہ آخر ان ہی تجزیہ نگاروں کی گندی نظر لگی اور آج ہم کبھی قطر اور کبھی سعودی عرب کو دیکھتے ہیں کہ رخِ روشن اور شمع میں سے کس کا انتخاب کریں اور یہ سب بغلیں بجاتے، خوش ہوتے پھرتے ہیں۔ بھلا بھائیوں بھائیوں کی لڑائی میں تمہارا کیا کام؟ آج لڑے ہیں کل ایک ہو جائیں گے، برے تم ہی بنو گے کہے دیتے ہیں۔

چین ہمارا دوست ہے اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہم دونوں کا دشمن ایک ہی ہے ۔ ویسے، خارجہ پالیسی پڑھانے والے ہمارے استاد، قومی مفاد کو خارجہ پالیسی کی بنیاد بتایا کرتے تھے۔ چین اور انڈیا تو اپنے مال کی کھپت کے لیے ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں۔ انڈیا کو یہ خوف ہے کہ بیرونی منڈیوں میں چین اس کے مال کو کاٹ رہا ہے۔

رہے ہم تو ہمارا قومی مفاد آپ جانتے ہی ہیں، فقط ایک ہے۔ ویسے وہ مفاد ہے کیا؟ مجھے تو کچھ بھول سا رہا ہے، آپ کو معلوم ہو تو بتائیے گا اور خدارا چین سے ہماری بے لوث دوستی کے پیچھے کسی مفاد کو ڈھونڈھنے کی کو شش بھی مت کیجئےگا، یہ تو معلوماتِ عامہ کا ایک سوال ہے، جواب سے بہتوں کا بھلا ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں