’آئی بی کو یہ اختیار کس قانون کے تحت ملا کہ لوگوں کے کوائف اکٹھے کرے‘

کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سویلین خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو کو پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان کو ڈرانے دھمکانے اور ہراساں کرنے سے روک دیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر عدالت ناخوشگوار حکم جاری کرنے پر مجبور ہوگی۔

واضح رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے آئی بی پر ٹیم کے ارکان کو ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا اور اس بارے میں اُنھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی تاہم آئی بی کے حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

اب کٹھ پتلیوں کے کھیل نہیں کھیلے جا سکتے: نواز شریف

شہباز شریف نے جے آئی ٹی کے سامنے بیان جمع کروا دیا

پیر کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما لیکس پر عمل درآمد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔

نامہ نگار کے مطابق اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئی بی کی طرف سے محض الزامات کی تردید سے کام نہیں چلے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ ڈی جی آئی بی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ جے آئی ٹی کے ارکان کے محض کوائف اکھٹے کیے گئے ہیں انھیں یا اُن کے ملازموں کو ہراساں نہیں کیا گیا۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ کیا آئی بی ہمارا ڈیٹا بھی اکھٹا کرتی ہے ۔ اُنھوں نے کہا کہ کیسے مان لوں کہ اُن کی مانیٹرنگ نہیں کی جاتی۔ اُنھوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو کے اہلکار کسی فرد کے لیے کام کرتے ہیں یا پھر ریاست کے لیے۔ اُنھوں نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ کا خط اعتراف جرم کے برابر ہے۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آئی بی کے سربراہ کو صفائی کا موقع ملنا چاہیے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے چاہییں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ آئی بی کو یہ اختیار کس قانون کے تحت ملا کہ لوگوں کے کوائف اکٹھے کرتی پھرے۔ اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے کوئی بھرتیاں نہیں کیں بلکہ جے آئی ٹی مقرر کی تھی۔ بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل کو آئی بی کے معاملے پر عدالت کی معاونت کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آئی بی، ایس ای سی پی سب ہی رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ آئی بی کس حساب سے ہر معاملے میں ناک پھنسا رہی ہے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس سمیت ان اداروں نے جے آئی ٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وفاق کے نمائندے ہیں وزیر اعظم کے نہیں۔

بینچ کے سربراہ نے کہا کہ جے آئی ٹی نے سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پر تحقیقات پر اثر انداز ہونے کا الزام لگایا ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایس ای سی پی نے الزامات کی تردید کی ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ریکارڈ میں ٹمپرنگ کا الزام جرم نہیں ہے جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ دفعہ 468 اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوتا ہے۔

عدالت نے ایس ای سی پی کے ریکارڈ میں مبینہ طور پر ٹمپرنگ کا معاملہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا ہے۔ عدالت نے ایف آئی اے کے سربراہ کو اس بارے میں رپورٹ جلد پیش کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں