گوادر: پاکستانی بحریہ کی گاڑی پر فائرنگ، دو اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حملہ آور موٹر سائیکلوں پر تھے جو کہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں ایک حملے میں پاکستانی بحریہ کے دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

ایس ایس پی گوادر برکت حسین کھوسہ نے اس حملے میں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہلے تربت بھیجا گیا جس کے بعد انھیں کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

گوادر کے دو علاقوں میں فائرنگ، 10 مزدور ہلاک

گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملہ، ایک اہلکار ہلاک

کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق بحریہ کے اہلکاروں پر یہ حملہ ضلع گوادر کے علاقے جیونی میں کیا گیا۔

نامہ نگار محمد کاظم کا کہنا ہے کہ ان ذرائع نے بتایا کہ بحریہ کے اہلکار ایک گاڑی میں خریداری کے سلسلے میں جیوانی شہر گئے تھے کہ واپسی پر نامعلوم افراد نے گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں دو اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔

حملہ آور موٹر سائیکلوں پر تھے جو کہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس واقعہ کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے تاہم آزادی ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔

گوادر ایران سے متصل بلوچستان کا ساحلی ضلع ہے۔ یہ ضلع انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔

بلوچستان میں حالات کی خرابی کے بعد سے مکران ڈویژن کے دیگر دو اضلاع کیچ اور پنجگورکی طرح گوادر میں بھی سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں کے علاوہ بدامنی کے دیگر واقعات سامنے آئے ہیں۔

اس سال 13مئی کو گوادر کے علاقے پشکان میں نامعلوم افراد کے حملے میں دس مزدور ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس سے قبل 24 اپریل کو مردم شماری کی ٹیموں پر حملے میں ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک اور دوسرا زخمی ہوا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں