’فوج پیسے دے پھر جو مرضی کرے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption واضح رہے کہ بعض قبائل پاکستان آرمی اور فضائیہ پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے کوئٹہ اور اس کے مضافات میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر 'غیرقانونی قبضہ' کر رکھا ہے۔ فائل فوٹو

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے اجلاس میں اتوار کو سینیٹر الیاس بلور کا کہنا تھا کہ 'فوج قبائل کو معاوضہ دے کر اراضی لے اور پھر جو چاہے تعمیر کرے۔'

اس اجلاس میں سمنگلی ایئر بیس اور کوئٹہ چھاونی میں اراضی کے معاملے پر مقامی قبائل، صوبائی حکومت اور افواج کے مابین جاری تنازعے پر بحث کی جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ بعض قبائل پاکستان آرمی اور فضائیہ پر الزام لگاتے ہیں کہ انھوں نے کوئٹہ اور اس کے مضافات میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر ’غیرقانونی قبضہ‘ کر رکھا ہے۔

مقامی قبائل نے اراضی تنازعے پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور مطالبہ کیا کہ اُنھیں طے شدہ معاہدے کے تحت اراضی کامعاوضہ دیا جائے۔

بازئی قبیلے کے نمائندگان نے کمیٹی کو بتایا کہ ’زمینوں پر مشرف دور میں قبضوں کا سلسلہ شروع ہوا اور ان سے اراضی کے عوض مارکیٹ شرح پر معاوضہ کی فراہمی کا وعدہ ہوا تاہم سینکڑوں ایکڑ اراضی کا معاوضہ نہیں دیا گیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس اراضی سے سمنگلی ایئربیس کی توسیع جبکہ بعض فلاحی منصوبے زیر غور ہیں۔ اس معاملے پر سینیٹر عثمان کاکڑ، اعظم موسی خیل اور گل بشرہ نے سینیٹ میں تحریکِ التوا جمع کرائی تھی جس کے بعد معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔

اتوار کے روز اجلاس میں وزارتِ دفاع کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے انھیں یہ اراضی لِیز پر دی تھی اور ’بتایا گیا تھا کہ یہ صوبائی حکومت کی اراضی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اب اس اراضی پر کام روک دیا گیا ہے کیونکہ ’صوبائی حکومت اسے سرکاری اراضی جبکہ قبائل اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔‘

سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ ’اگر مقامی لوگ اس اراضی پر کسی قسم کا فلاحی منصوبہ نہیں چاہتے تو ایسا کوئی منصوبہ زبردستی نہیں تعمیر کیا جا سکتا۔‘

وزارت دفاع اور فضائیہ کے حکام نے موقف اختیار کیا کہ ’کسی بھی اراضی پر قبضہ نہیں ہو سکتا نہ ہی ہئیت تبدیل کی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'سمنگلی اور کوئٹہ کنٹونمنٹ کا معاملہ مختلف ہے، صوبائی حکومت اسے سرکاری اراضی اور قبائل اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔‘

چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد حسین سید نے معاملے کے حل کے لیے سینیٹر عبدالقیوم کی سربراہی میں تین رکنی ذیلی کمیٹی قائم کی ہے جو ساٹھ روز میں اپنی رپورٹ پیش کریگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں