’مائی لارڈز ابھی ہم بڑے نہیں ہوئے‘

سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاناما لیکس کی تحقیقات کے دوران وزیراعظم کے بیٹے حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے معاملے میں درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے ریمارکس سے بظاہر ایسا لگا کہ عدالت عظمیٰ حکومت کے بعض ترجمانوں سے نالاں ہیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر کسی بھی شخص یا ادارے کو سپریم کورٹ کے اس بینچ سے کوئی شکایت ہے تو وہ عدالت میں آکر درخواست دے اور اس کو قانون کے مطابق دیکھا جائے گا۔

عدالت نے یہ بھی نوم کیا کہ ایک خاص مقصد کے تحت دستاویز کو میڈیا کے ذریعے لیک کیا جارہا ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بحثیت اٹارنی جنرل وفاق کے نمائندے ہیں اور اگر کسی بھی ادارے کو سپریم کورٹ سمیت کسی بھی ادارے سے کوئی شکایت ہے تو وہ آپ کے ذریعے عدالت عظمیٰ سے رابطہ کرسکتا ہے بجائے اس کے کہ میڈیا پر یہ معاملات اُچھالے جائیں۔

اٹارنی جنرل نے جسٹس عظمت سعید سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ’مائی لارڈز ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ہم بڑے نہیں ہوئے۔‘

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھے کہ میڈیا کے ذریعے عدالت کو یا پاناما کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے تو ایسا نہیں ہوگا۔

سماعت کے دوران حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان فواد چوہدری کھڑے ہوئے اور کہا کہ ’مائی لارڈز پانچ کا ٹولہ میڈیا پر حساس معلومات لیک کر رہا ہے۔‘ جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے فواد چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک منٹ رکیں آپ میرے بھائی یعنی عظمت سعید کے فگرز کو چیلنج کر رہے ہیں، جنھوں نے ایسے افراد کی تعداد آٹھ بتائی ہے‘، جس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہ بلند ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جسٹس عظمت سعید نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر آج ہونے والی کارروائی پہلے سے ہی شائع ہوچکی ہے اور اس کو دیکھا جائے تو پھر آپ کو (اشتر اوصاف) کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاق کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے اُن پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حکومت اور حکومتی اداروں سے کہیں کہ اُنھیں جو بھی شکایت ہے وہ اُن کے ذریعے (اشتر اوصاف) عدالت کو آگاہ کریں۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ اگر آپ کسی کی طرف انگلی سے اشارہ کریں گے تو چار انگلیاں اپنی طرف بھی آتی ہیں۔

حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے بارے میں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں ذمہ دار کے تعین کے ذکر کے بارے میں اشتر اوصاف نے عدالت سے کہا کہ اس میں اس شخص کا تو نام نہیں ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ اس کا تعلق کس ادارے سے ہے جس پر بینچ کے تینوں ارکان نے آپس میں گفتگو کی اور اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

سماعت کے دوران پہلی مرتبہ یہ مناظر دیکھنے کو ملے کہ کمرۂ عدالت میں حکمراں جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکان پارلیمان نہ صرف خوش گپیوں میں مصروف رہے بلکہ ایک دوسرے کے ہاتھوں پر ہاتھ مار کر قہقہے بھی لگاتے رہے جبکہ میڈیا کے کیمروں کے سامنے آکر ایک مرتبہ پھر اُنھوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع کردی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں