عائشہ ہر ملک کی کتاب پڑھنا چاہتی ہیں

عائشہ

پاکستان سے تعلق رکھنے والی 13 برس کی عائشہ عارف کو شوق ہے کہ وہ دنیا کے مختلف ممالک کی کتابیں پڑھیں۔

آٹھویں جماعت کی طالبہ عائشہ اب تک دنیا کے 197 ممالک میں سے 82 ممالک کی کتابیں پڑھ چکی ہیں اور اس سے زیادہ دلچسپ ہے اس سفر کے پیچھے کی کہانی۔

بچپن سے کتابیں پڑھنے کی شوقین عائشہ کو اپنی امی کی لائی ہوئی کتابیں کبھی پسند نہیں آئیں۔ پڑھنے کا شوق تو تھا لیکن ذوق کی تسکین نہیں ہو پا رہی تھی۔ تب ایک دن عائشہ کے بھائی نے ان کو کچھ ایسی کتابیں لا کر دیں جس سے ان کی زندگی ہی بدل گئی۔

ارائیں بچے کا دل وحشی ہوگیا

انگلینڈ سے مستعار لی گئی کتاب امریکہ پہنچی اور آٹھ سال بعد واپس ہوئی

کتب خانوں اور کتب بینی میں کمی

عائشہ کے بقول 'بھائی نے مجھے لیمینی سنیکیٹ کی چار کتابوں کا سیٹ لا کر دیا جس کا نام تھا سیریز آف انفورچونیٹ ایوینٹس۔ ان کو پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ میرے مزاج کی کتابیں بھی ہیں۔ پھر کتابیں پڑھنا ایک عادت سی بن گئی۔ شروع میں صرف برطانوی اور امریکی مصنفین کی کتابیں پڑھیں تو ایسا لگا کچھ چھوٹ رہا ہے، تب خیال آیا کہ کیوں نہ دنیا کے ہر ملک سے ایک کتاب پڑھی جائے۔'

عائشہ برطانوی بلاگر اور مصنفہ این مورگن سے بہت متاثر ہوئیں، جنھوں نے سنہ 2012 میں اسی طرز پر دنیا بھر سے کتابیں پڑھنے کی مہم چلائی تھی۔

سوچنے میں جتنا آسان تھا، کرنے میں اتنا ہی مشکل۔ نہ اتنے پیسے اور نہ اتنے وسائل۔ پھر عائشہ نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور اپنے مشن کو 'ریڈنگ اے بک فرام ایوری کنٹری' (دنیا کے ہر ملک سے ایک کتاب پڑھنا‘ کے نام سے فیس بک پر ایک صفحہ بنایاـ اس حوالے سے عائشہ کی امی نے ان کی رہنمائی کی اور جلد ہی یہ صفحہ کافی مقبول ہو گیا۔

عائشہ نے اپنے فیس بک پیج پر 197 ممالک کے نام لکھ کر ان کے آگے خالی جگہ چھوڑ دی تاکہ لوگ ان ممالک کی بہترین کتابوں کے نام تجویز کر سکیں جس کے بعد مشوروں کا تو تانتا ہی بندھ گیا۔ مصنف اور فنکاروں کے علاوہ غیر ملکی سیاسی لیڈروں نے بھی عائشہ سے رابطہ کیا۔

'میرے لیے سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب نائجیریا کے سابق صدر گڈ لک جوناتھن نے مجھے فیس بک پر پیغام بھیجا اور اپنے ملک کی بہترین کتابیں تجویز کیں لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ کسی نے میرا اکاؤنٹ رپورٹ کر دیا اور کم عمر ہونے کی وجہ سے فیس بک نے میرا اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا جس سے میرا ان تمام لوگوں سے رابطہ ٹوٹ گیا۔'

13 سال کی عائشہ نے ہمت نہ ہاری اور اپنی امی کے اکاؤنٹ کے ذریعے اپنا صفحہ بنایا۔ نیا اکاؤنٹ بھی بن گیا، نئے اور پرانے فولورز بھی آ گئے لیکن کھویا ہوا ڈیٹا نہ مل سکا۔ عائشہ کی ان تمام کوششوں میں ان کی والدہ فریال نے مکمل رہنمائی کی۔

'امی نے مجھے فیس بک استعمال کرنا سکھایا اور بتایا کہ کس طرح لوگوں سے بات چیت کروں۔ میری پوری فیملی نے مجھے سپورٹ کیا۔ بچپن میں دادی جو کہانیاں سناتی تھیں، انھی سے کتابیں پڑھنے کا شوق ہوا۔ بھائی نے وہ کتابیں لا کر دیں جن سے میرا ذوق بنا اور ابو نے تو دنیا بھر سے مجھے کتابیں منگوا کر دیں، کبھی ان کی مہنگی قیمت کی پرواہ نہیں کی۔'

عائشہ کے والد ڈاکٹر اور والدہ سکول ٹییچر ہیں، ان کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ وہ بھی دنیا بھر کی کتابیں پڑھ سکیں اور ان کی یہ خواہش عائشہ نے پوری کی۔

عائشہ کتابیں پڑھ کر ان پر تبصرہ بھی لکھتی ہیں۔

'میں صرف ان مصنفین کی کتابیں پڑھتی ہوں جنھوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت اپنے آبائی ملک میں گزارا ہو۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ وہ کتاب میری عمر کے لحاظ سے ہونی چاہیے، کیونکہ میں صرف 13 سال کی ہوں تو میں بڑوں والی کتابیں نہیں پڑھ سکتی۔'

82 ممالک کی کتابیں پڑھ لینے والی عائشہ نے ان سے کیا سیکھا؟ جب یہ پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ان کتابوں کے ذریعے ان ممالک کا ورثہ، انقلابی جنگوں اور تاریخ کے باب سامنے آئے۔

عائشہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ باقی ممالک کی کتابیں انگریزی میں نہیں بلکہ ان کی مقامی زبانوں میں ہیں اس حوالے سے وہ کہتی ہیں 'ایک حل تو یہ ہے کہ نئی زبانیں سیکھی جائیں جو میرے لیے اس وقت ممکن نہیں۔ دوسرا ایسی کتابیں تلاش کروں جو انگریزی میں ہوں۔ کئی بار اگر مصنف کو ای میل کر کے درخواست کی جائے تو وہ خود ہی اپنی کتاب کا انگریزی ورژن بھیج دیتے ہیں۔'

عائشہ عارف بڑی ہو کر مصنفہ بننا چاہتی ہیں اور اسی لیے انھوں نے عزم کیا ہے کہ کتابیں پڑھنے کا سلسلہ کبھی نہیں روکیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب دنیا کے ہر ملک سے ایک کتاب پڑھنے کا سلسلہ مکمل ہو جائے گا تو وہ اس طرز کا کوئی نیا مشن شروع کر دیں گی تاکہ کتابوں سے کبھی تعلق نہ ٹوٹے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں