بارودی سرنگیں: قبائلی علاقوں کی زمین میں پوشیدہ دشمن

باجوڑ
Image caption حکام کے مطابق ان روایتی اور غیر روایتی بارودی سرنگوں کا شکار ہونے والوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے

قبائلی پولیس یا لیویز کے اہلکار احسان اللہ کو یہ تو یاد نہیں کہ وہ اب تک کتنی بارودی سرنگیں یا آئی ای ڈیز ناکارہ بنا چکے ہیں، مگر قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ان کا گذشتہ تین برسوں سے یہی معمول ہے۔

تقریباً روزانہ ہی وہ اس چھپے ہوئے دشمن کو تلاش کرکے ناکارہ بناتے ہیں۔ یہ خاصا مشکل اور دشوار گزار علاقہ ہے، جبکہ لیویز کے پاس سہولیات کا بھی فقدان ہے۔

احسان اللہ خان باجوڑ ایجنسی کے بم ڈسپوزل سکواڈ کے ایک کارکن ہیں جن کا کام ڈی مائننگ یعنی علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا بھی ہے۔

ان سے پہلے ان کے والد بھی یہی کام کرتے تھے لیکن سنہ 2015 مییں وہ اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک بارودی سرنگ ناکارہ بناتے ہوئے قریب ہی نصب ریموٹ کنٹرول بم پھٹ گیا۔

احسان اللہ ہمیں باجوڑ ایجنسی کی تحصیل خار میں اپنے ہیڈکوارٹر میں قائم اس سٹور روم میں لے گئے جہاں ناکارہ بنایا گیا بارودی مواد رکھا جاتا ہے۔

ان میں چند دن پہلے کھیت سے ملنے والی روسی ساختہ ٹینک شکن بارودی سرنگیں، درجنوں اینٹی پرسنل لینڈ مائنز اور کئی درجن راکٹ شامل تھے۔ انھیں شدت پسندوں نے ایک درخت کے تنے میں چھپا رکھا تھا۔

جب احسان اللہ سے پوچھا کہ نہ صرف وہ اپنے والد کو ہلاک ہوتے دیکھ چکے ہیں بلکہ ان کے پاس کوئی حفاظتی لباس یا جدید ساز و سامان نہیں تو پھر وہ اس محکمے میں کیوں آئے؟ ان کا جواب تھا کہ ’بم ناکارہ بنانا مشکل کام ہے اور موت سامنے ہو تو ڈر بھی لگتا ہے، لیکن اگر ہم لینڈ مائنز صاف نہیں کریں گے تو کون کرے گا، مٹی میں چھپا یہ بارود یہاں موجود رہا تو ہم ہی مریں گے۔‘

Image caption فاٹا کی دیگر ایجنسیوں کے مقابلے میں باجوڑ میں بارودی سرنگیں پھٹنے کے سب سے زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں ہر پانچ سو میں سے ایک شخص بارودی سرنگ پھٹنے کے حادثات میں معذور ہو چکا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق یہاں بارودی سرنگوں کا پھٹنا اور لوگوں کا معذور ہونا اب معمول ہے اور اکثر یہ واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ جبکہ یہ خطرہ اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے کہ لوگ مخصوص گزرگاہوں اور سڑکوں کے علاوہ دیگر راستے اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

حکام کے مطابق ان روایتی اور غیر روایتی بارودی سرنگوں کا شکار ہونے والوں میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔

واڑا بی بی نامی مقامی خاتون گذشتہ ماہ اس وقت زخمی ہوئیں جب باجوڑ اور افغان سرحدی علاقے میں کھیت میں کام کے دوران ان کا پاؤں بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق ’یہ روسی ساختہ لینڈ مائن تھی جو ممکنہ طور پر اسی یا نوے کی دہائی میں نصب کی گئی ہو گی۔‘

واڑا بی بی کا یہ گاؤں میٹؤ باجوڑ کی تحصیل ماموند میں پاک افغان سرحد پر واقع ہے، سرحد کے اس پار افغان صوبہ کنڑ دور سے ہی دکھائی دیتا ہے۔ دہشت گردوں کی کی اہم گزرگاہ ہونے کی وجہ سے یہاں کئی سالوں سے سرحد بند ہے۔

واڑا بی بی نے بتایا کہ وہ علی الصبح اپنے مویشیوں کے لیے گھاس کاٹنے ایک کھیت میں تھیں۔ ’مجھے لگا کہ کوئی راکٹ گرا ہے، دھماکہ ہوا اور مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔ پانچ سال پہلے یہاں بہت بارودی سرنگیں پھٹتی تھیں، میرے گاؤں کی کئی عورتیں اور بچے زخمی ہوئے اور ہلاک ہوئے، مگر اب یہ واقعہ پانچ سال بعد ہوا ہے۔‘

Image caption احسان اللہ خان باجوڑ ایجنسی کے بم ڈسپوزل سکواڈ کے ایک کارکن ہیں

واڑا بی بی کو سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا جہاں ایک ماہ علاج ہوا۔ وہ کہتی ہیں کہ اب ان کی زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے۔ ’ہم تو غریب لوگ ہیں، یہاں کبھی کوئی مدد کو نہیں آیا، حکومت کا کام ہے کہ یہ بارودی سرنگیں ختم کرے ، کسی کا بھی پاؤں آ سکتا ہے کوئی بھی مر سکتا ہے، ایک گاؤں کی تلاشی لینے میں کتنا وقت لگے گا لیکن کم از کم ہم سکون سے اس زمین پر پاؤں تو رکھ سکیں گے۔ اب تو یہاں چلنے سے بھی ڈر لگتا ہے۔‘

فاٹا کی دیگر ایجنسیوں کے مقابلے میں باجوڑ میں بارودی سرنگیں پھٹنے کے سب سے زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں، یہاں 2008 میں طالبان کے خلاف پاکستانی فوج کے آپریشن کے بعد علاقے کا انتظام سول حکومت کے سپرد کیے تقریباً پانچ سال بیت گئے ہیں لیکن یہاں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا مکمل صفایا نہیں ہوا۔

حتیٰ کہ افغان سرحد کے قریبی علاقوں میں 1980 کی دہائی میں بچھائی گئی روسی ساختہ بارودی سرنگیں اب بھی موجود ہیں۔

یہیں ہماری ملاقات بادشاہ رحمان سے ہوئی جو لکڑی کے فن پارے بناتے ہیں۔ ان فن پاروں میں ان کا وہ گھر بھی ہے جو آپریشن کے دوران بمباری سے تباہ ہوا اور انھیں ’تعمیرِ نو کے لیے امدادی رقم بھی نہیں ملی‘۔ مگر ہمیں ان کے سامان میں کچھ غیر معمولی اشیا نظر آئیں۔ لکڑی سے بنے راکٹ، مارٹر گولے، ہینڈ گرینیڈ، گولیاں اور بارودی سرنگیں۔

اس سوال پر کہ انھوں نے یہ سامان کیوں تیار کیا ہے، انھوں نے بتایا کہ وہ یہ ’چیزیں مقامی بچوں کو دکھاتے ہیں کہ اگر کہیں یہ نظر آئیں تو انہیں ہاتھ نہیں لگانا۔‘

تاہم عوام میں آگاہی پیدا کرنے سے متعلق اقدامات کا یہی سوال جب انتظامیہ کے نمائندوں سے کیا گیا تو ان کے پاس ایسا کوئی لائحہ عمل موجود نہیں تھا۔

باجوڑ ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ محمد علی خان کہتے ہیں کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ وہ باجوڑ ایجنسی کا 95 فیصد علاقہ تو کلیئر کرا چکے ہیں کیونکہ ابھی کچھ علاقہ صاف ہونا باقی ہے،

’میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا، کیونکہ اب بھی بارودی سرنگیں پھٹتی ہیں، کہیں نہ کہیں سے ان کی موجودگی کی اطلاع آتی رہتی ہے، یہاں کئی علاقوں تک رسائی کا مسئلہ بھی ہے۔‘

محمد علی خان کہتے ہیں کہ سنہ 2008 سے اب تک بارودی سرنگیں پھٹنے کے مختلف واقعات میں 1400 سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ اسی عرصے میں 1800 زائد افراد معذور ہوئے۔

’انتہائی دشوار علاقہ ہونے کی وجہ سے لینڈ مائینز کا مکمل صفایا ہونے میں وقت لگے گا جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد سرکاری اعداد و شمار اور ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔‘

پاکستان میں بارودی سرنگوں پر کام کرنے والی تنظیم سپاڈو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رضا شاہ خان کہتے ہیں کہ پاکستان میں بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانا اس لیے بڑا مسئلہ نہیں کہ پاکستانی فوج کی کور آف انجنئیرز اس سلسلے میں دنیا بھر میں مانی جاتی ہے، تاہم ’سب سے بڑا مسئلہ بارودی سرنگوں سے آگاہی پیدا کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بارودی سرنگوں سے متاثرہ علاقوں میں اس وقت تک ترقی نہیں ہو سکتی جب تک یہ مکمل طور پر کلیئر نہیں کر لیے جاتے۔ جبکہ متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے بھی حکومت کام نہیں کرتی۔‘

بارودی سرنگوں کو انتہائی مہلک ہتھیار مانا جاتا ہے، کیونکہ زمین تلے بچھا یہ بارود پھٹ جائے تو عمر بھر کے لیے جسمانی معذوری متاثرہ افراد کا مقدر بن جاتی ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں بھی ’مکمل امن و امان‘ کے دعوے اپنی جگہ لیکن یہاں بارودی سرنگوں کی موجودگی بتاتی ہے کہ طویل جنگ کے اثرات اور اب بھی باقی ہیں۔ اور ان سے نمٹنے کے لیے وسائل اور منصوبہ بندی، دونوں ہی موجود نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں