ہمارے خونی جشن

پاکستان میں جشن تصویر کے کاپی رائٹ RIZWAN TABASSUM
Image caption چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستان کی جیت کے بعد مختلف شہروں میں جشن منایا گیا

ہر سال دو یا تین دن ایسے آتے ہیں جب میں اپنے سائز سے زیادہ بہادر کتے کو کھینچ کر پلنگ کے نیچے کر دیتا ہوں۔ باقی گھر والوں سے کہتا ہوں کھڑکیوں سے دور ہوجائیں۔

13 اگست کی رات کو جب جشن آزادی کا آغاز ہوتا ہے، 29 رمضان جب نورانی چہروں والے بزرگ عید کے چاند کے متلاشی ہوتے ہیں یا کبھی اس دن جب پاکستان کی کرکٹ ٹیم کسی بڑے میچ میں کوئی معجزہ کرتی ہے۔

مجھے پتہ ہوتا ہے کہ اب میرے ملک میں گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔ ایک گولی چلے گی، پھر ایک برسٹ چلے گا۔ پھر اگلے گھنٹے تک فضا گولیوں کی تڑتڑ سے گونجیں گی، پرندے درختوں سے جوق در جوق اڑیں گے، شور مچائیں گے پھر درختوں میں دبک جائیں گے۔ شہروں میں پلے بڑھے جانور خوف سے تھرتھرائیں گے اور سوچیں گے کہ یا اللہ کس خوفناک دشمن نے ہمارے شہر پر حملہ کر دیا ہے۔

میں ایسے موقعوں پر پلنگ کے نیچے کپکپاتے کتے کو تسلی دیتا ہوں اور دل ہی دل میں گنتی کرتا ہوں کہ پستول اور کلاشنکوفوں سے منایا جانے والا یہ جشن کتنوں کا خون بہائے گا۔

پاکستان نے انڈیا کو ہرایا، جشن منانا تو بنتا تھا، ہم نے منایا۔ 60 زخمی کر دیے۔ کراچی کے ایک جشن مناتے بچے کی جان گئی۔ اب اس کے گھر والے پتہ نہیں کس دل سے انڈیا پاکستان کا میچ دیکھیں گے۔

میرا خیال تھا کہ ہوائی فائرنگ اس وقت کی جاتی ہے جب دشمن کو ڈرانا مقصود ہو۔ ہماری ہوائی فائرنگ سے صرف کوے اور کتے ڈرتے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ کوئی شیر بھی گولیوں کی بوچھاڑ کی آواز سن کر سوچتا ہوگا کہ لوگ کتنے بہادر ہیں۔ لگے رہو میرے شیرو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میرا خیال ہے کہ جشن کے اس عالم میں ہم اپنے آپ کو جنگجو سمجھنے لگتے ہیں۔ امراء کے گھر کے باہر ٹینٹوں میں رہتے گارڈ، وہ بچے جو کسی دوسرے بچے کو بچی کے پھڈے پر اڑانا چاہتے ہیں لیکن نہیں اڑا سکتے، ادھیڑ عمر مرد جن کو اپنی مردانگی کے اظہار کے موقعے کم کم ملتے ہیں، یہ سب لوگ کچھ دیر کے لیے اپنے آپ کو قبائلی سردار، یا پہاڑ پر ڈیوٹی دیتا جانباز سپاہی یا گھریلو حالات سے ستایا ہوا ریمبو سمجھنے لگتے ہیں۔

ہمارے محلے میں کریانے کا ایک دکاندار ہے۔ وہ اتنا مرنجاں و مریخ ہے کہ ادھار سودا دے کر پیسے مانگتا ہوا شرماتا ہے۔ ایک مرتبہ 29 رمضان کو اس کا زندگی سے بیزار گارڈ بھی ہوائی فائرنگ کرنے لگا۔ میں نے گھبرا کر کہا کہ یار آپ اس کو روکو۔ اس نے کہا چھوڑیں پورا سال فارغ بیٹھا رہتا ہے۔ سال میں دو دفعہ دل پشوری کر لیتا ہے، اس بہانے گن بھی ٹیسٹ ہوجاتی ہے۔

میرا دل کیا کہ اسے بتاؤں کہ مجھے گولی صرف فلم میں چلتی اچھی لگتی ہے وہ بھی تب جب پستول لڑکی کے ہاتھ میں ہو۔ لیکن پھر میں نے اس کے بیزار گارڈ کی پمپ ایکشن گن دیکھی اور گھر کی طرف بھاگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اب ہم جشن آزادی، چاند رات یا کرکٹ میچ معجزے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ شادی کی مبارک باد بھی گولی چلا کر دیتے ہیں۔ ختنے پر بھی پستول کا منہ آسمان کی طرف کر دیتے ہیں۔ کبھی کبھی سیاسی جلسے جلوسوں میں بھی نعروں کے ساتھ ساتھ بندوق کی لبلبی دبا دیتے ہیں۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں گولیوں کے اس گھمسان میں گھر سے نکلوں اور بندوق بازوں سے ہاتھ جوڑ کر کہوں یارو خوشی منانے کے اور بھی طریقے تھے وہ بھول گئے؟

موتی چور کے لڈو تو کھائے ہوں گے۔ رس گلوں کا کیا ہوا۔ شوگر کے مریض ہو تو شوگر فری مٹھائی بھی دستیاب ہے۔ دو نفل شکرانے کے پڑھنے کے بارے میں کیا خیال ہے۔ اگر طبیعت اس طرف نہیں آتی تو گلیوں بازاروں میں پھرتے خواجہ سراؤں کو تھوڑے پیسے لگاؤ وہ رقص کریں گے۔ اگر یہ فحاشی لگتی ہے تو یوں کرو کہ گھر سے نکلو تھوڑی دور کوئی ڈھول والا مل جائے گا، اسے ایک سو روپے کا نوٹ دو وہ اتنی زور سے ڈھول بجائے گا کہ اس ملک کے بانیان کی روحیں بھی رقص کریں گی، عید کے چاند کے متلاشی نورانی چہروں کو چاند بھی بڑا نظر آئے گا اور ہو سکتا ہے آپ کے ہاتھوں ہارا ہوا دشمن، مثلاً یوراج سنگھ بھی ہاتھ اٹھا کر بھنگڑا ڈالے اور آپ کی خوشی میں شامل ہو جائے۔ شہر کے کوے اور کتے بھی خوفزدہ نہ ہوں گے اور ہمارے بچے بھی ہمارے خونی جشن کی بھینٹ نہیں چڑھیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں