کلبھوشن نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کر دی

کلبھوشن جادھو تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعرات کو بھارتی ایجنٹ کلبھوشن جادھو کے اعترافی بیان کی ایک اور نئی ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

اس ویڈیو میں جادھو یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ انڈیا کے خفیہ ادارے را نے پاکستان میں شدت ہسندی کی کارروائیاں سپانسر کیں تاکہ پاک چین اکنامک کوریڈور کو نقصان پہنچے اور بلوچستان اور کراچی میں حالات خراب کیے جائیں۔

ویڈیو میں کیا کہا گیا ہے؟

جاری کردہ ویڈیو میں کلبھوشن جادھو کہتے ہیں کہ انھوں نے دو بار کراچی کا دورہ کیا جس کا مقصد پاکستان بحریہ کے اثاثوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا۔ اس کے علاوہ ان کا کام مکران کی ساحلی پٹی سے منسلک علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں انجام دینا اور ان کی رابطہ کاری تھا۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ انھوں نے ایران کے ساحلی شہر چاربہار میں حسین مبارک پٹیل کے جعلی نام سے کاروبار شروع کیا تھا جس کے تحت بلوچ مزاحمت کاروں اور دہشت گردوں سے ملاقاتیں کی جاتی تھیں جن کا مقصد بلوچ علیحدگی پسندوں کے دستے تیار کرنا تھا تاکہ پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا جائے۔

رحم کی اپیل

آئی ایس پی آر کے مطابق کلبھوشن جادھو نے آرمی چیف سے رحم کی اپیل کی ہے۔

آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جادھو نے جاسوسی، دہشت گردی کی کارروائیوں اور پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے لوگوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور جائیداد کا نقصان ہوا۔

انھوں نے چیف آف آرمی سٹاف سے درخواست کی ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کی جان بخشی کی جائے۔

اس سے قبل کلبھوشن جادھو نے فوجی اپیلیٹ کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جو مسترد کر دی گئی تھی۔ بیان کے مطابق قانون کے تحت وہ چیف آف آرمی سٹاف سے اپیل کر سکتے ہیں اور اگر یہ بھی مسترد ہو جائے تو پھر وہ صدرِ پاکستان سے اپیل کر سکتے ہیں۔

کلبھوشن کی گرفتاری

بھارتی شہری کلبھوشن جادھو کو گذشتہ برس تین مارچ کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد 24 مارچ کو پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کے افسر اور بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کے ایجنٹ ہیں۔

اس کے بعد اس سال دس اپریل کو جادھو کو فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔

تاہم اس کے بعد انڈیا عالمی ادارۂ انصاف میں چلا گیا جس نے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت دی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہ دی جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں