مسٹر اٹارنی جنرل ایسا نہیں چلے گا: سپریم کورٹ

پاناما کیس تصویر کے کاپی رائٹ EPA/AFP
Image caption شریف خاندان کے ارکان میں سے نواز شریف، شہباز شریف، حسن نواز اور حسین نواز اب تک جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے تعاون نہ کیے جانے پر اٹارنی جنرل سے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے جمعرات کو جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے تیسری رپورٹ پیش کی اور عدالت کو بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذمہ داران تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے۔

جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر اٹارنی جنرل ایسے نہیں چلے گا۔‘

’میڈم اب بس بھی کریں کافی دیر سے بول رہی ہیں‘

’مائی لارڈز ابھی ہم بڑے نہیں ہوئے‘

جے آئی ٹی کے سامنے سوال کیا؟

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کو دس جولائی کو حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ عدالت نے ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں قائم ہونے والی چھ رکنی ٹیم کو دو ماہ میں اپنا کام مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

جمعرات کو عدالت نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو دس جولائی کو حتمی رپورٹ عدالت پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئین کے تحت تمام ادارے سپریم کورٹ کے احکامات کے پابند ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ TV GRAB

واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ اُن کی ٹیم نے ایف بی آر سے وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کی ویلتھ سٹیٹمنٹ مانگی تھی جو ابھی تک فراہم نہیں کی گئی جس پر بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر سے جب بھی ریکارڈ مانگیں تو یا تو ریکارڈ چوری ہو جاتا ہے اور یا پھر گم ہو جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اُن دستاویزات کی فہرست فراہم کریں تو وہ متعقلہ حکام کے حوالے کر دیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایف بی آر ایک مخصوص وقت تک ریکارڈ رکھتا ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ایف بی آر نے یہ بات عدالت کو نہیں بتائی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر عدالت چاہے تو اس ضمن میں ایف بی آر کے چیئرمین کو نوٹس جاری کرسکتی ہے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موقع آنے پر ایسا بھی کر سکتے ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کی طرف سے عدم تعاون کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔

Image caption تصویر لیک کرنے کے معاملے پر تحققیاتی ٹیم کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ معاملہ حساس ہونے کی وجہ سے ذمہ دار شخص کا نام نہیں بتایا گیا

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان فواد چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ایف بی آر کے علاوہ ایف آئی اے اور سویلین خفیہ ادارے انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ ایکسٹینشن پر ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 'ان اداروں کے سربراہان اچھی اداکاری کر رہے ہیں اس لیے اُنھیں آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کر دینا چاہیے۔'

ویڈیو ریکارڈنگ سے متعلق حسین نواز کی درخواست مسترد

ریاستی ادارے ریکارڈ تبدیل کر رہے ہیں: جے آئی ٹی

بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن کی افسران کی طرف سے ریکارڈ میں مبینہ تبدیلی کے بارے میں تحقیقات کا کیا ہوا؟ جس پر اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے جو جلد ہی اپنا کام مکمل کرلے گی۔

حسین نواز کی تصویر لیک ہونے کے معاملے پر تحققیاتی ٹیم کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ معاملہ حساس ہونے کی وجہ سے ذمہ دار شخص کا نام نہیں بتایا گیا۔

آئینی ماہرین کے مطابق پاناما لیکس کے بارے میں جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پاناما لیکس پر عمل درآمد کرنے والے موجودہ بینچ یا پھر نیا بینچ تشکیل دیں گے جو اس معاملے پر عدالتی کارروائی کو آگے بڑھائے گا۔

اسی بارے میں