مذہب کی جبراً تبدیلی پر بل اسمبلی میں دوبارہ لانے کا فیصلہ

رویتا

سندھ ہائی کورٹ نے مذہب کی جبراً تبدیل کے ایک مقدمے میں ہندو لڑکی رویتا میگھواڑ کو دارالامان بھیج دیا ہے۔

رویتا میگھواڑ کے والدین نے رویتا کا مذہب جبری طور پر تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

حیدرآباد بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور کی عدالت میں جمعرات کو رویتا کیس کی سماعت ہوئی۔

'رویتا کا زبردستی مذہب تبدیل کرنے کے بعد نکاح کیا گیا'

'مر جاؤں گی لیکن اپنا مذہب نہیں بدلوں گی'

سندھ حکومت جبری مذہب کے قانون پر نظر ثانی کے لیے تیار

سماعت کے موقعے پر رویتا اور نواز علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

نواز علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ اس کی رویتا سے گاؤں کے راستے میں ملاقات ہوئی تھی، اس کے بعد دوستی ہوئی، اس نے رویتا کو موبائل فون لے کر دیا جس سے وہ رابطے میں رہتے تھے اور پچھلے دنوں رویتا نے مرضی سے اپنا گھر چھوڑ کر اسلام قبول کیا جس کے بعد ہم نے نکاح کر لیا۔

رویتا کے والد سترم میگھواڑ کے وکلا بھگودان داس اور علی پلھ کا موقف تھا کہ نواز علی شاہ سندھ چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں کیونکہ 18 سال سے کم عمر میں شادی نہیں کی جاسکتی جبکہ رویتا کی عمر ابھی 18 سال سے کم ہے۔

سترم میگھواڑ کے وکلا نے انجلی کیس کا بھی حوالہ تھا، جس میں جسٹس سجاد علی شاہ نے نو عمر لڑکی انجلی کو دارالامان بھیج دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ رویتا نو عمر ہے اور کسی بچے کو ورغلاکر شادی کرنا جرم ہے۔

جسٹس صلاح الدین پنہور نے رویتا سے پوچھا تو انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنا مذہب قبول کیا ہے جس پر عدالت نے انھیں دارالامان بھیجنے کا حکم جاری کیا اور سماعت جمعے تک ملتوی کر دی۔

کل جعے کو جج کے چیمبر میں وکلا اور رویتا کے والدین کی موجودگی میں ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

اس سے قبل نواز علی شاہ اپنے والدین کے ساتھ رویتا کو لے کر پیش ہوئے۔ عدالتی احاطے کے اندر رویتا کی ماں نے بیٹی سے ملنے کی کوشش کی لیکن رویتا نے اپنی ماں سے بات کرنے انکار کر دیا۔

عدالت نے گذشتہ روز رویتا کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم جاری کیا تھا۔

رویتا عرف گلناز نے عدالت میں تحفظ فراہم کرنے کی درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے والدین نے اس کے شوہر پر اغوا کا مقدمہ درج کیا ہے حالانکہ اس نے اپنی مرضی سے نواز شاہ سے نکاح کیا ہے۔

رویتا کے والد کے وکلا نے اس درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا کی اور عدالت کو بتایا کہ یہ شادی چائلڈ میرج ایکٹ کے زمرے میں آتی ہے۔

دوسری جانب اقلیتی امور کے مشیر ڈاکٹر کھٹومل جیون نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں مذہب جبراً تبدیلی کا بل دوبارہ پیش کیا جائے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر کھٹو مل نے اس بل کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔

'یہ بل جب گورنر کے پاس منظوری کے لیے گیا تو انھوں نے اس پر دستخط نہیں کیے اور وہ جماعتیں جن کی سندھ اسمبلی میں کوئی نمائندگی موجود نہیں، انھوں نے ملک گیر احتجاج کیا لیکن ہماری قیادت اور پوری اسمبلی کی یہ خواہش تھی کہ یہ بل منظور ہو، ہم اگلے سیشن میں اس بل کو دوبارہ پیش کریں گے اور اس بار اسے گورنر کو بھیجنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔'

اس بل میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی صغیر (کم سن) یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے مذہب تبدیل کر لیا ہے تو اس کے دعوے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ڈاکٹر کھٹو مل کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کو تبدیلی مذہب کی عمر کی شق پر اعتراض تھا ہم نے تمام مذہبی جماعتوں کو پیشکش کی تھی کہ آئیں اس بل پر شق وار بات کرتے ہیں لیکن کوئی نہیں آیا۔' پاکستان میں آئین سے متصادم کوئی بھی قانون سازی نہیں کی جاسکتی جبکہ یہ بل آئین کے عین مطابق ہے۔'

ہندو پروٹیکشن ایکٹ کے نام سے یہ بل ابتدائی طور پر اپوزیشن جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے رکن نند کمار گوکلانی نے پیش کیا تھا جس کا تقریبا ایک سال تک اسٹینڈنگ کمیٹی نے جائزہ لیا جس کے بعد فلور پر پیش کیا گیا۔

نندکمار گوکلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کچھ دیگر جماعتوں نے گورنر کو کہا تھا کہ یہ بل واپس بھیجیں ہم اس پر دوبارہ نظر ثانی کرتے ہیں۔

'بل کی واپسی کے بعد ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی رہنما نثار کھوڑو کو کئی مرتبہ کہا کہ اس کو فلور پر لائیں اور انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ میٹنگ کرتے ہیں لیکن ابھی تک یہ نہیں ہو سکا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں