لاہور میں توہینِ رسالت کے الزام میں ایک شخص گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 1986 میں توہینِ رسالت کا قانون بننے کے بعد سے تقریباً 1,058 افراد پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے شہر لاہور میں اقلیتی مسیحی برادری کے ایک شخص کو توہینِ رسالت کے الزام میں گرفتاری کے بعد جیل بھیج دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرین ٹاؤن کے رہائشی اشفاق مسیح کو باگریان کی علاقے میں واقع ان کی سائیکل مرمت کرنے والی دکان سے گرفتار کیا گیا۔

ایس پی صدر لاہور رضوان عمر گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ اشفاق مسیح کو پندرہ جون کو گرفتار کرنے کے بعد دوسرے ہی روز جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا تھا۔

لاہور میں گرین ٹاؤن پولیس کے مطابق اشفاق ایک سائیکل مکینک ہیں اور ان کے خلاف توہینِ رسالت کا مقدمہ ان کی دکان کے مالک کی درخواست پر درج کیا گیا۔ پولیس کے مطابق اشفاق مبینہ طور پر اپنی دکان پر کام کرتے ہوئے اپنی ہی برادری ایک شخص سے گفتگو کرتے ہوئے توہینِ رسالت کے مرتکب ہوئے۔

جس کہ بعد ان کی وہاں موجود کچھ لوگوں سے بحث ہوئی۔ تاہم ان کی گفتگو سننے پر ان کی دکان کے مالک نے ان کو قریب سے گزرتی پولیس موبائل کے حوالے کر دیا۔ مالک کی درخواست پر ان کے خلاف قانونِ رسالت کے قانون کے تحت 295 سی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کی عمر بیس سال کے لگ بھگ ہے۔ پولیس کے ایک تفتیشی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم ایک ان پڑھ آدمی ہے۔ "اس کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ اس نے جو بات کی ہے وہ اسے مسئلے میں ڈال سکتی ہے۔"

پولیس کے مطابق ملزم سے کسی قسم کی برآمدگی کی ضرورت نہیں ہوئی تھی اسلیے ان کو جسمانی ریمانڈ لیے بغیر دوسرے ہی روز جیل بھیج دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ لاہور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مسیحی بستی جلانے اور سانحہ جوزف کالونی کے 115 ملزمان کو ناکافی گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا تھا۔ واضع رہے کہ ایک غیرسرکاری تنظیم لائف فار آل کے مطابق سنہ 1986 میں توہینِ رسالت کا قانون بننے کے بعد سے اب تک 1,058 افراد جس میں (456 احمدی، 449 مسلمان، 132 مسیح اور 21 ہندو) شامل ہیں پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے گئے۔اس تعداد میں سے 80 فیصد واقعات مرکزی پنجاب کے آٹھ اضلاع میں پیش آئے۔ ان کے مطابق 38 افراد جن پر توہین مذہب کا الزام تھا انھیں ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا۔ ان میں 16 مسیح، 15 مسلمان، پانچ احمدی اور دو ہندو شامل تھے۔