پولیس اہلکار کی ہلاکت کا معاملہ،رکن صوبائی اسمبلی مجید اچکزئی گرفتار

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئر مین کی گرفتاری واقعہ کے تین راوز بعد عمل میں آئی۔
Image caption پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی گرفتاری واقعے کے تین روز بعد عمل میں آئی

بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید خان اچکزئی کو ٹریفک پولیس کے ایک انسپیکٹر کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ٹریفک پولیس انسپیکٹر عطا اللہ کی ہلاکت کا واقعہ 20جون کو کوئٹہ شہر کے زرغون روڈ پر ایک گاڑی کی ٹکر سے پیش آیا تھا ۔

انسپیکٹر عطااللہ زرغون روڈ پر واقع جی پی او چوک پر ٹریفک کنٹرول کررہے تھے کہ ایک سفید رنگ کی لینڈ کروزر گاڑی نے تیزی کے ساتھ آتے ہوئے ان کو ٹکر ماردی تھی۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق عطااللہ کو گاڑی نے پیچھے سے ٹکر ماردی تھی کیونکہ وہ اس وقت دوسری جانب کی ٹریفک کو کنٹرول کررہا تھا۔

جس گاڑی نے ٹریفک پولیس انسپیکٹر کو ٹکر ماری تھی وہ بلوچستان اسمبلی کے رکن اور اسمبلی کے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین مجید خان اچکزئی کی تھی۔

کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ابتدائی طور پر سول لائنز پولیس نے ٹریفک پولیس انسپیکٹر کی ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا تھا تاہم جب اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میڈیا پر نشر ہوئی تو مجید خان اچکزئی کو گرفتار کیا گیا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی گرفتاری واقعے کے تین روز بعد عمل میں آئی۔

Image caption ان کو بکتر بند گاڑی میں ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا

کچہری کے احاطے میں بکتر بند گاڑی سے اترتے ہوئے مجید خان اچکزئی نے میڈیا کے نمائندوں پر برہمی کا اظہار کیا ۔

انھوں نے میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ لوگوں کو پولیس والوں نے یہاں آنے کی دعوت دی۔ انھوں نے کہا کہ ’بے شرم لوگ۔ کیا گذشتہ روز بم د ھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی فوٹیج آپ لوگوں کو نہیں ملی۔ آپ لوگوں کو ٹریفک کے ایک سپاہی کی فوٹیج ملی۔‘

ان کو بکتر بند گاڑی میں ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

پولیس نے عدالت سے مجید اچکزئی کی پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی جسے عدالت نے منظور کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں