پاک افغان کشیدگی پر چین کو تشویش

چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی سرحدی کشیدگی اور سیاسی و سفارتی چپقلش پر اپنی تشویش سے دونوں ملکوں کی حکومتوں کو آگاہ کیا ہے۔

وانگ یی افغان حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد سنیچر کو اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔

پاکستان میں دو روزہ قیام کے دوران چینی وزیر خارجہ بعض دیگر اعلی' سول اور فوجی حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

بعض سینیئر پاکستانی حکام کے مطابق چینی وزیر خارجہ کے ان دونوں ملکوں کے اس ’ہنگامی‘ دورے کا مقصد افغانستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے کوشش ہے۔

شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع پر چینی تشویش

دہشت گردی کو کسی ایک ملک سے نہیں جوڑا جا سکتا: چین

چینی وزیر خارجہ کی پاکستانی حکام کے ساتھ گفتگو کے مندرجات سے آگاہ بعض پاکستانی حکام کے مطابق چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور اسے خطے کے تمام ممالک کی سکیورٹی کے لئے خطرہ قرار دیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور غلط فہمیاں خطے میں جو صورتحال پیدا کر رہی ہے اس سے خطے میں جاری ترقی کے ایجنڈے کو بھی خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان نے دونوں ملکوں میں حالیہ دنوں میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا الزام ایک دوسرے پر عائد کیا ہے۔

چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس کے ہزاروں شہری ان منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کے مختلف علاقوں میں کام کر رہے ہیں جن میں بعض ایسے علاقے بھی شامل ہیں جو افغان سرحد کے قریب ہونے کی وجہ سے سکیورٹی خطرات میں گھرے ہوئے ہیں اور افغانستان میں بھی چین کے وسیع معاشی مفادات موجود ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں