پاکستان کا افغانستان سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور دیگر سٹیک ہولڈرز مزید اقدامات کریں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ ایی ایس پی آر کی جانب سے سنیچر کی شب جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا گیا کہ ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے حوالے سے آرمی چیف کی سربراہی میں سکیورٹی اجلاس منعقد ہوا۔

پاکستان افغانستان مذاکرات کی فلاپ فلم

اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے واضح طور پر افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں سے جڑے ہیں جنھیں را اور این ڈی ایس چلا رہے ہیں۔

اس موقع پر آرمی چیف نے عالمی بردری کی جانب سے پاکستان سے ڈو مور کے مطالبے پر تنقید کی اور کہا کہ 'افسوس ناک امر ہے کہ پاکستان کی قربانیوں کو کسی نے تسلیم نہیں کیا اور قربانیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ہم سے ڈومور کے مطالبات کیے گئے۔‘

انھوں نے کہا کہ اب ہم دیگر سٹیک ہولڈرز بالخصوص افغانستان سے ڈو مور کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کےحلاف اپنی کوششوں کو جاری رکھے گا اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔

خیال رہے کہ جمعے کو کرم ایجنسی میں بم دھماکے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ جمعے کو ہی کوئٹہ میں بھی پولیس کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی بارے میں